مسلسل نا انصافیوں ، حکومتوں کی نا اہلی نے کراچی کو مسائل زدہ شہر بنا دیا ، حافظ نعیم الرحمن

104

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کراچی کے ساتھ مسلسل نا انصافیوں ، حکومتوں کی نا اہلی و ناقص کارکردگی اورشہر کے گمبھیر مسائل پر مجرمانہ غفلت و لاپروائی نے کراچی کو ملک کا سب سے زیادہ مسائل زدہ شہر بنا دیا ہے ۔ پی پی پی اور ایم کیو ایم دونوں کراچی کی تباہی کی ذمے دار ہیں ، پی ٹی آئی نے بھی 2 سال میں کراچی کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا ۔ جماعت اسلامی کی ’’حقوق کراچی تحریک ‘‘ حکمرانوں کو متوجہ کرنے اور عوام کے حقوق حاصل کرنے کی تحریک ہے ۔ 27ستمبر کو ’’کراچی حقوق مارچ‘‘ عوام کے احساسات و جذبات کا حقیقی ترجمان ثابت ہو گا ۔ کارکنان اور ذمے داران تحریک کو تیز کردیں اور مارچ کی کامیابی کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ کوششیں کریں اور اس کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریاں اور انتظامات کریں ۔ رابطہ عوام مہم کا دائرہ مزید وسیع کریں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں حقوق کراچی تحریک و مارچ کی تیاریوں اور انتظامات کے سلسلے میں کراچی کے ہر سطح کے ناظمین اور ذمے داران کے ایک اہم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجتماع سے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی ، سیکرٹری کراچی عبد الوہاب اوردیگر نے بھی خطاب کیا ۔ اجتماع میں ناظمین و ذمے داران کو مہم کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اور تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ۔ حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ مسائل کے حل کے لیے با اختیار شہری حکومت قائم کی جائے۔ کراچی کومیگا میٹرو پولیٹن سٹی کا درجہ دیا جائے، وسائل کی درست اور منصفانہ تقسیم اور ترقیاتی کاموں کو بہتر انداز میں کرنے کے لیے درست مردم شماری کرائی جائے ۔ کوٹا سسٹم ختم کر کے میرٹ کا نظام وضع کیا جائے، ہم موجودہ سندھ لوکل باڈیز ایکٹ (SLBA)کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیںاسے ختم کیا جائے ، 700 یونین کمیٹیاں بناکر شفاف ، آزادانہ اور منصفانہ بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں تاکہ شہر کی حقیقی قیادت کو سامنے آنے کا موقع مل سکے۔کراچی کو آفت زدہ شہر قرار دینے کے بعد بارش سے متاثرہ اورمصیبت زدہ شہریوں اورتاجروں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور فوری طور پر تمام یوٹیلیٹی بلز معاف کیے جائیں اور ٹیکسوں میں ریلیف دیا جائے ، کے الیکٹرک کو فوری طور قومی تحویل میں لے کر 15سال کا فرانزک آڈٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کی درست اور منصفانہ تقسیم ، عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف کی فراہمی اور ترقیاتی کاموں کو بہتر انداز میں کرنے کے لیے درست مردم شماری ازحد ضروری ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کراچی کی آبادی کو درست شمار اور ظاہر نہیں کیا گیا ہے ۔ اس لیے کراچی میں شفاف مردم شماری کرائی جائے تاکہ آبادی کے لحاظ سے اس شہر کو اس کا جائز حق مل سکے ۔ ایک اندازے کے مطابق کراچی کی آبادی آج تقریباً 3کروڑ تک پہنچ گئی ہے لیکن مردم شماری میں اسے ڈیڑھ کروڑ ظاہر کیا گیا ہے ۔ جب مردم شماری میں نصف آبادی ہی غائب کردی جائے گی تو وسائل اور اختیارات کہاں سے ملیں گے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صوبائی حکومت کے فیصلے غیر جمہوری اور غیر سنجیدہ ہیں جنہیں کراچی کے باشعور اور جمہوریت پسند شہری ہرگز قبول نہیں کریں گے ۔ پیپلز پارٹی عرصہ دراز سے سندھ پر حکومت کر رہی ہے ، ایم کیو ایم بھی اقتدار میں شریک رہی ہے ان ہی کی نا اہلی اور ناقص کارکردگی کے باعث کراچی سمیت پورے سندھ کے عوام تباہی و بربادی کا شکار ہیں۔ کراچی کی یہ حالت زار چند سال میں نہیںہوئی بلکہ یہاں پر مسلط حکمران پارٹیوں کی مسلسل مجرمانہ غفلت اور لا پروائی کے باعث ہی یہ حالت ہو گئی ہے ، مسلسل نا انصافیوں ، حکمرانوں کے غیر سنجیدہ فیصلے اور اقدامات نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔ موجودہ وفاقی حکومت نے بھی 2سال میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے ، حالیہ بارشوں نے حکمرانوں کی نا اہلی اور حالات کی سنگینی کو مزید عیاں کر دیا ۔وزیر اعظم عمران خان بہت تاخیر سے کراچی آئے اور محض چند گھنٹے گورنر ہائوس میں گزار کر اور ماضی کی طرح صرف اعلانات کر کے چلے گئے ، کراچی پیکج کی بہت بات کی جارہی ہے لیکن وفاقی و صوبائی حکومتوں کے غیر سنجیدہ رویے ، ماضی کے ریکارڈ اور ایک دوسرے پر الزامات اور سیاست بازی کے عمل نے عوام کو مایوس کیا ہے اور پیکج کو مذاق بنایاجارہا ہے اورایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کو پیکج کے نام پر ایک بار پھر دھوکا دیا گیا ہے۔