ترکی نے یورپی یونین کامطالبہ مسترد کردیا

162

انقرہ:ترکی نے یورپی یونین کا مشرقی بحیرہ روم میں سرگرمیاں روکنے کا مطالبہ مسترد کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپین یونین نے ترکی سے کہا ہے کہ وہ مشرقی بحیرہ روم میں یکطرفہ اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روک دے، یورپی بلاک نے ترکی کو یونان کے ساتھ مذاکرات کرنے کو بھی کہا ہے۔

ترکی نے یورپین یونین کے اس مطالبے کو جانبدار اور حقیقت کے برعکس قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہوئے کہاکہ وہ یونان کے ساتھ کسی بھی پیشگی شرط کے بغیر مذاکرات کے لئے ہر وقت تیار ہے۔

رپورٹس کے مطابق فرانس، یونان، مالٹا، اسپین، پرتگال اور یونانی قبرص کے سربراہوں کا ایک اہم اجلاس کورسیکا میں ہوا۔

یورپین یونین کے سات رکن ممالک کے سربراہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں ترکی کو خبردار کیا ہے کہ جب تک مشرقی بحیرہ روم میں غیر قانونی سرگرمیاں نہیں روکی جاتیں اس وقت تک ترکی سے مذاکرات نہیں کئے جائیں گے۔

 یورپین یونین نے دھمکی دی ہے کہ اگر ترکی نے ان مطالبات کو تسلیم نہ کیا تو اس ماہ کے آخر میں یورپی بلاک کے اجلاس میں ترکی پر مزید سخت پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔