آگ لگی نہیں لگائی گئی۔۔مقدمہ فیکٹری مالکان کے خلاف

157

خالد مخدومی

گیارہ ستمبر ،جلتے جسموں کی بے کسی اور بے رحم قاتلوں کی سفاکیت آج بھی تھاماتم کناں ہے، 2012 کوگزرے8 برس ہوئے اس کے باوجود کے بھی انسانی جسموں کے ساتھ اقتدار و طاقت کے بھوت ناچتے محسوس ہوتے ہیں ،25کڑور روپے کے بھتے کی وصولی کے لیے جو نفرت انگیز اور دل کو چیر دینے والا کھیل بلدیہ کی ایک فیکٹری میںکھیلا گیااس نے ریاست وحکومت پرسے شہریوں کا اعتماد اٹھا دیا ، اس واقعہ کا ایک المناک پہلو یہ ہے کہ تمام ریاستی اداروں نے جانتے بوجھتے متحدہ قو می موومنٹ کی جانب سے 260انسانوں کو زندہ جلائے جانے کے منظم واقعہ کو حادثاتی آگ قراردیا ،جو اس بات کی تھی دلیل کہ اقتدار ، قوت اور دولت کے لیے اپنوں کی جان لیے لینا ماضی کے بادشوںکا قصہ نہیں، آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے،11ستمبر ,2012پاکستان کے شہر کراچی کے سول ہسپتال کا سرد خانہ لاشوں سے بھر چکا تھا، باہرا سٹریچر پر بھی درجنوں لاشیں موجود تھیں جو سفید چادروں سے ڈھکی ہوئی تھیں، ہوا کا ایک جھونکا آتا ہے اور ایک لاش کے چہرے سے کپڑا ہٹ جاتا ہے، قریب موجود ایک خاتون کی نظر جیسے ہی اس پر پڑتی ہے تو ’وہ میرا ایان‘ کہہ کر اس سے لپٹ جاتی ہیں۔اس طرح سعیدہ بی بی کی گذشتہ 12 گھنٹے سے جاری تلاش ختم ہوتی ہے، یہ منظر بلدیہ ٹاوں میںحب ریوور روڈ پر پلاٹ نمبر 67پر قائم علی انٹر پرائزز میں لگی آگ کا ہے ،جو ناموں اور چہروں کوبدل کر بار بار دیکھا جارہاتھا،12ستمبر 2012 شام کے قریب قریب 6بجے جب فیکٹری کے تقربیا 1400ملازمیں میں سے 450لگ بھگ موجود ہیں ، اچانک فیکٹری میںآگ آگ کا شور بلند ہو ااور پھر پاکستان کی تاریخ میں ایک وقت میں انسانوں کے قتل سب سے بڑے واقعہ نے جنم لیا،ڈھائی سو انسانوں کے اجتماعی قتل کے وقت متحدہ قومی موومنٹ کراچی اور حیدرآباد کی سب سے بڑی قوت تھی اوراس کی سفاکیت پوری شدت کے ساتھ کراچی میںاپنا خونی کھیل کھیل رہی تھی ، جس کے ایماء پر آتشزدگی کے اس واقعے کو حادثاتی قرار دیا گیا تھااور کیس ایک خاص سمت میں چل رہا تھا، واقعے کے فوراً بعد آنے والی فیڈرل انویسٹگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق آگ حادثاتی تھی جو کہ فیکٹری کی پہلی منزل پر ہونے والے شارٹ سرکٹ سے لگی تھی، انسانوں کوزندہ جلانے والی متحدہ قومی موومنٹ کے سامنے سجدہ ریز ایف آئی اے اور پولیس سمیت تمام تفتیشی اداروں نے واقعاتی شواہد کو مکمل طور پر نظر انداز کیا، متحدہ کے تحت چلنے والی فائر بریگیڈکا 80سے 90منٹ تاخیر تک پہنچنا،متحدہ کے صوبائی وزیر رئوف صدیقی کا جائے واردات پر آکر بغیر شواہد جمع کیے آگ کا ذمہ دار فیکٹری مالکان کو قراردینا،فیکٹری کی زمیں بیچ کر متاثرین کو معاوضہ دلوانے کے اعلان ، متحدہ کے ہمدرد اور اس وقت کے سی پی ایل سی کے سربراہ احمد چنائے کا فیکٹری پہچنے والے فیکٹری مالکان کو وہاں سے جانے کے مجبور کرنے سمیت بے تحاشہ واقعاتی ثبوت قاتلوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کررہے تھے تاہم وہ جادو ہی کیا جو سر چڑہ کر نہ بولے کے مصداق متحدہ کی بیساکھیوں پر چلنے والی صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے بے غیرتی ،بے حسی اور اپنے اقتدار کی بقا کے لیے سیکڑوں انسانوں کے جانوں کا سواد کرتے ہوئے معاملے دوسرا رنگ دیا ، اور واقعہ کا مقدمہ فیکٹری مالکان اور ان کے4 ملازمیںکے خلاف درج کرلیاگیا اور ایسے حالات پیدا کیے کہ فیکٹری مالکان عبدالعزیز ،ارشدبھائیلہ ا ورشاہد بھائیلہ کو لاڑکانہ کی ایک عدالت سے ضمانت لے کر ملک چھوڑ کرجانا پڑا، تاہم قدرت کو کچھ اور منطور تھا،دارز کی گئی رسی کھینج لی گی جب ایک اور کیس میں گرفتار متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن اور کے ایم سی کے افسر رضوان قریشی نے رینجزر کے ایک افسر کے سامنے یہ بیان دیاکہ اْس نے یہ سْنا ہے کہ متحدہ کی تنظیمی کمیٹی نے بھتّہ نہ ملنے کی صورت میں فیکٹری میںکیمیکل پھینکا جس سے آگ لگ گئی۔یہی بات فیکٹری مالکان، ارشد بھائلہ اور شاہد بھائلہ، نے جے آیی ٹی کو دیے اپنے بیان میں کہی کہ فروری 2013 میں ضمانت پر رہا ہونے کے بعد اْن کو متحدہ کی تنظیمی کمیٹی کے چیئرمین، حمّاد صدیقی، کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں جس میں وہ 25 کروڑ روپے بھتّے کی ڈیمانڈ کررہے تھے،2016 میں جے آئی ٹی کو بنیاد بناتے ہوئے نیا چالان جمع کرایا گیا جس کے بعد کیس ضلعی عدالت سے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں منتقل ہوااس میں یہ بات سامنے آئی کہ فیکٹری مالکان کوہراساں کیا جا رہا تھا اور یہ کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی تھی۔فیکٹری میں آگ لگنے کے بعد زخمیوں کے ابتدائی بیان میں یہ بات سامنے آئی کہ فیکٹری میں باہر نکلنے کے راستے بند کردیے گئے تھے ،تفتیشی کمیشن کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ فیکٹری کی پہلی منزل پر آگ لگنے کہ کوئی نشان نہیں ہیں اور وہاں موجود مشین میں دھاگہ تک صحیح حالت میں ہے۔، مارچ 2016 میں نئی جے آئی ٹی کے متن کے مطابق آگ اگر حادثاتی ہوتی تو ایک ساتھ پوری عمارت میں پھیلتی۔ آگ ٹکڑوں میں لگی جس میں تہہ خانہ اور گراؤنڈ فلور شامل ہیں اور جہاں کہا گیا کہ شارٹ سرکٹ ہوا ہے، جو کہ کے۔ الیکٹرک کے ابتدائی بیان کے مطابق پہلی منزل پر ہوا تھا، اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔کمیشن نے مختلف عینی شاہدین کے بیانات لیے جو اشارہ کررہے ہیں کہ فیکٹری میں آگ ایک مجرمانہ سازش تھی۔کمیشن کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پہلی منزل پر آگ لگنے کہ کوئی نشان نہیں ہیں، وہاں موجود مشین میں دھاگہ تک صحیح حالت میں ہے۔تحقیقاتی کمیشن سے ایک رکن نے یہ بھی بتایاکہ نے کہا کہ فیکٹری کو آگ کی نذر کرنے والوں کی جانب سے اس بات کی بھی کوشش کی گئی کہ پنجاب فورینزک سائنس ایجنسی کی اس کو رپورٹ جھوٹا ثابت کردیاجائے جس میںکہاگیا تھاکہ فیکٹری میں آگ باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے لگائی گئی ہے حادثاتی طور پر نہیںلگی ہے ، اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چشم دید گواہ ارشد نے بتایا کہ وہ بطور الیکٹریشن کام کرتا تھا، جس روز یہ واقعہ رونما ہوا اس روز زبیر چریا نے اس کہا کہ آج کچھ مہمان آئیں گے شام کو ملنا۔شام کو پانچ مہمان آئے جن کا تعلق فیکٹری سے نہیں تھا، زبیر چریا نے کہا کہ یہ میرے مہمان ہیں انہیں واش روم میں لے جاؤ جہاں چریا بھی آگیا اور سب نے چرس پی جس کے بعد وہ اپنے کام پر چلا گیا۔ارشد نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ وہ میزنائن فلور پر کام کرتا ہے، اس نے مڑ کر دیکھا کہ زبیر چریا نے قمیض سے سیاہ رنگ کی شاپنگ بیگ نکالی اسے ھلایا اور کپڑے پر پھینک دیا جس سے وہاں آگ لگ گئی، باقی لوگوں نے بھی اسی طرح کیا جس سے گودام میں آگ لگ گئی وہاں سے سیدھا راستہ سیکنڈ فلور پر جاتا ہے تھوڑی دیر کے بعد دیکھا کہ سیکنڈ فلور پر بھی آگ لگ چکی تھی، جبکہ فرسٹ فلور پر آگ نہیں لگی تھی،’جب آگ بجھانے چھت پر جا رہے تھے تو دیکھا زبیر اور اس کے ساتھی کینٹین کو لاک کرکے اندر بیٹھے ہوئے ہیں اس نے دیوار پھلانگ کر دروازہ کھولا تو زبیر چریا اور اس کے ساتھی چرس پی رہے تھے اور خوش گپیاں کر رہے تھے۔ وہ ان کی طرف لپکے کے آپ نہ جاؤ لیکن ہم بیس پچیس لوگ تھے نکل گئے۔ زبیر چریا فیکٹری میں فنشنگ ڈیپارٹمنٹ کا انچارج تھا، اس سے قبل رحمان بھولا کا اعترافی بیان بھی سامنے آچکا ہے جس میں اسے نے کہا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے کراچی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی نے اسے کہا تھا کہ فیکٹری میں آگ لگا دو کیونکہ وہ 25 کروڑ بھتہ نہیں دے رہا، جس کے بعد رحمان بھولا نے کیمیکل لاکر زبیر چریا کو دیا تھا۔ واقعے کے بعد رحمان بھولا فرار ہوگیا تھا جسے انٹرپول کی مدد سے بینکاک سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پبلک پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ کے مطابق اس مقدمے میں دو اصل ملزم ہیں جن میں زبیر چریا اور رحمان بھولا شامل ہیں جو دونوں جیل میں ہیں جبکہ جے آئی ٹی نے تین ملزمان کی نشاندھی کی ہے جو واقعے کے بعد بھتہ خوری میں ملوث ہیں، یہ ایم کیو ایم لندن کے سابق رہنما انیس قائم خانی کے جاننے والے ہیں اور انھوں نے فیکٹری مالکان سے یہ کہہ کر پانچ کروڑ 58 لاکھ لیے تھے کہ ایم کیو ایم ان کی حمایت کرے گی ملزمان زبیر چریا اور عبد الرحمان بھولا کے وکیل نے چشم دید گواہ سے استفسار کیا کہ واقعے کے اتنے عرصے بعد بیان کیوں قلمبند کرایا؟گواہ ارشد کا کہنا تبھاکہ کہ وہ رینجرز کے پاس گیا کہ اس کا پکا بیان لے لیں کیونکہ اسے زندگی کا خدشہ تھا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سماعت کا پتہ نہ چلے سکے اس لیے پنجاب چلا گیا اور 2015 میں پہلی بار کراچی آیا جب جے آئی ٹی نے اس بلایا تھا۔ اس نے جے آئی ٹی کے سامنے بھی یہ ہی بیان دیا تھا۔
واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے ملزم محمد زبیر عرف چریا کو 2016 میں سعودی عرب سے جب کہ عبدالرحمان بھولا کو بنکاک سے کراچی لایاگیا،جب کہ حماد صدیقی اس وقت مفرور ہے اور اب 8برس بعد 17ستمبر کو انسدا د دہشت گردی کی عدالت اس سفاک معاملے پر اپنا فیصلہ سنانے جارہی ہے۔ایک سوال اپنی جگہ ہے کہ کیا سارا معاملہ زبیر چریا، عبدالرحمن بھولا اور حماد صدیقی کا تھا ۔ پیچھے کوئی نہیں تھا ۔