جماعت اسلامی متاثرین کے ساتھ ہے ، نجیب ایوبی

178

جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی پبلک ایڈ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری نجیب ایوبی نے کہاکہ جماعت اسلامی کی پبلک ایڈ اورلیگل ایڈ کمیٹی سانحہ بلدیہ ٹائون کے متاثرین کے ساتھ ہے سانحہ بلدیہ ٹائون فیکٹری کے متاثرین ہماری زندگی اورخاندان کاحصہ ہیں۔ان کے دکھ درد ہمارے دکھ درد ہیں۔جماعت اسلامی کاہر کارکن ان کے ساتھ ہے۔ ہم نے بلا رنگ نسل ومذہب کراچی کے شہریوں کے مسائل حل کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے،انہوں نے کہاکہ سانحہ بلدیہ ٹائون کے متاثرین کے لیے جرمنی کے کمپنی کی فراہم کردہ رقم متاثرین میں تقسیم کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر خالد خان نے کہنا ہے کہ سانحہ بلد یہ پاکستان ہی نہیں دنیا کی تاریخ کا بدترین اور خوفناک واقعہ ہے جس نے درندگی اور حیوانیت کی انتہا کردی گئی ہے۔ جس دن دہشت گردوں نے بھتہ نہ دینے پر بر بریت سفاکیت کی انتہا کرتے ہوئے 260غریب محنت کشوں کو زندہ جلا کر راکھ کر دیا تھا۔ اپنے پیا گھرجانے کیلئے نوکریاں کرنے والی غریب بچیاں ہاتھوں میں مہندی لگانے کے خواب لئے راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔ بوڑھے ماں باپ سے ان کے جوان بیٹے اور سہاگنوں سے ان کا دوپٹہ چھین لیا گیا قاتل اور ان کے سر پرست آج بھی آزاد ہیں۔ حکومت قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو تختہ دار پر لٹکائے اورانہیں نشان عبرت بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ 11ستمبر 2012 سے آج 8 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن آج تک سانحہ بلدیہ کے متاثرین انصاف کیلئے در بدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ بیرونی ممالک سے 52 کروڑ کی آنے والی رقم پر این جی اوز قابض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی ممالک سے آنے والی پوری رقم متاثرین میں برابری کی بنیادپر تقسیم کیاجائے۔ خالد خان نے کہا کہ سانحہ بلدیہ کے شہدا کا خون فروخت کیا جارہا ہے اور متاثرین کی امدای رقم این جی اوز کے کارندے سندھ گورنمنٹ کے افسران کی ملی بھگت سے ہڑپ کرنا چاہتے ہیں لیکن این ایل ایف سانحہ بلدیہ کے لواحقین کے ساتھ ظلم برداشت نہیں کرے گی اور ہم متاثرین کی رقم کسی کوہضم نہیں کرنے دیں گے۔نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور کا کہنا ہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کو8 برس بیت گئے لیکن حادثے میں شہید 260 مزدوروں کے ورثا آج بھی انصاف کے منتظر ہیں،جبکہ ذمہ داران آزاد گھوم رہے ہیں، فیکٹریوں اور کارخانوں میں ہیلتھ وسیفٹی یقینی بنانے کے لیے اب تک کوئی ٹھوس اقدامات نہیں ہو سکے ،فیکٹری مالکان،حکومتی ادارے اور بین الاقوامی برانڈز آج بھی مزدوروں کو بدترین حالات میں کام کرنے پر مجبور کئے ہوئے ہیں،اس صورتحال میں مزدور طبقے کا اتحاد ہی انہیں سرمایہ داروں کے جبر سے نجات دلا سکتا ہے۔8برس گزرنے کے باوجود سانحے کے ذمہ داران قانون کی گرفت سے باہر ہیں، جبکہ فیکٹریوں اور کارخانوں میں ہیلتھ و سیفٹی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے حادثات معمول بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں نے سانحہ بلدیہ میں ایک خاص نقط? نظرشامل کیا جس کی وجہ سے کیس سیاسی ہوا اور آج بھی ملوث افراد دندناتے پھر رہے ہیں۔اْنھوں نے کہا کہ ’جن لوگوں کے 2015 میں بننے والی جے آئی ٹی میں نام تھے وہ جب ایک گروہ سے نکل کر دوسرے گروہ میں چلے گئے تو اْن کے خلاف اب کوئی کارروائی نہیں ہورہی ہے۔ آج سے 8 سال قبل آج ہی کی تاریخ میں یہ اندوہناک سانحہ پیش آیا، اپنے پیاروں کے زندہ جلنے کا غم میں ڈوبے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔گیارہ سمتبر دوہزار بارہ کی صبح کراچی بلدیہ میں واقع فیکٹری کے محنت کش یہ نہیں جانتے تھے کہ آج ان کا لاشہ گھر واپس لایا جائے گا۔ جلنے کی ناقابل برداشت بو پر کوئی پہچان بھی نہ پائے گا۔ بندہ خاکی راکھ کا ڈھیر بن جائے گا۔بیواؤں اور یتیموں کی چیخیں آج بھی فلک کو چیرتی ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک دو نہیں درجنوں بے گناہوں کے خون کا حساب کس سے لیا جائے گا؟ کیس کی فائلوں پر پڑنے والی گرد کی تہیں موٹی ہوتی جارہی ہیں۔یاد رہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے جو 17 ستمبر کو سنایا جائے گا،مقدمہ کی کارروائی 3 سال اور 7 ماہ تک جاری رہی۔ کیس میں ملزمان کیخلاف 400 گواہوں نے بیان ریکارڈ کرائے۔ کراچی سینٹرل جیل میں انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت نمبر 7 نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ فیصلہ 17 ستمبر کو 12 بجے سنایا جائے گا۔