سیدہ خالدہ بنت حارث

165

طالب ہاشمی
جلیل القدر صحابی سیدنا عبداللہ بن سلامؓ کی پھوپھی تھیں۔ سرور عالمؐ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں نزول فرمایا تو اس وقت عبداللہ بن سلامؓ اپنے باغ میں تھے، ان کی پھوپھی خالدہ بنت حارث بھی وہیں تھیں۔ کسی نے باغ میں جاکر عبداللہ بن سلامؓ کو نبیؐ کی تشریف فرمائی کی اطلاع دی تو وہ فرط عقیدت سے بے خود ہوگئے اور بے اختیار اللہ اکبر، کہہ اٹھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ تورات کے بہت بڑے عالم تھے اور اس میں نبی آخر الزمانؐ کی علامات پڑھ کر آپؐ کے نادیدہ عاشق بن گئے تھے ان کی مسرت اور بے تابی کو دیکھ کر خالدہؓ بڑی حیران ہوئیں اور کہنے لگیں: حصین (عبداللہ بن سلام کا اصل نام) ان صاحب کے آنے سے تمہیں اتنی خوشی ہوئی ہے کہ شاید موسیٰ بن عمران بھی تشریف لاتے تو اتنے خوش نہ ہوتے؟ عبداللہؓ بن سالم نے کہا: ’’پھوپھی جان خدا کی قسم، یہ بھی موسیؑ کے بھائی ہیں اور اسی دین کی تبلیغ کے لیے دنیا میں تشریف لائے ہیں جس کے موسیؑ مبلغ تھے۔
خالدہؓ نے پوچھا: برادر زادے! کیا واقعی یہ وہی نبی ہیں جن کی تورات اور دوسرے آسمانی صحائف میں خبر دی گئی ہے۔ عبداللہؓ بن سالم نے جوا ب دیا: ’’بے شک یہ وہی نبی ہیں‘‘۔ خالدہؓ نے کہا: ’’پھر تو ہماری بڑی خوش بختی ہے کہ وہ ہمارے شہر میں تشریف لائے‘‘۔اس سوال و جواب کے بعد سیدنا عبداللہؓ نے بارگاہ نبوت کا قصد کیا، خالدہؓ بھی ان کے پیچھے گئیں اور مشرف باسلام ہو کر لوٹیں۔ پھر اپنے گھر پہنچ کر سب اہل خانہ کو اسلام کی تلقین کی۔ چنانچہ گھر کے سب چھوٹے بڑے سعادت اندوز اسلام ہوگئے۔ بعض روایتوں میں ان کو عبداللہؓ بن سلام کی چچی بتایا گیا ہے۔واللہ اعلم بالصواب !