القدس مزاحمت کا استعارہ ہے،دستبردار نہیں ہوں گے،حماس

182
مقبوضہ بیت المقدس: قابض صہیونی فوج نے مسجد اقصیٰ کے راستوں پر جاسوسی کے الآت کی تنصیب کا سلسلہ تیز کردیا ہے

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی فلسطینی قوم اور پوری امت مسلمہ کے کندھوں پر قرض ہے۔ بیت المقدس ہی قابض صہیونی دشمن کے خلاف جاری جنگ کا عنوان ہے۔ انہوںنے بیت المقدس کی آزادی اور اس کے دفاع کے لیے امت کی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بیروت میں ایک وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس میںموجود اسلامی اور مسیحی مقدسات کے حوالے سے ہم اُمت کے حق کا دفاع کریں گے۔ اس باب میں مسجد اقصیٰ سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسجد اقصیٰ پوری عرب اور مسلمان دنیا کا مرکز ہے۔ قابض صہیونی دشمن کو قبلہ اول کے کسی ایک حصے پربھی اپنا تسلط جمانے یا اجارہ داری قائم کرنے کا حق نہیں۔ مسجد اقصیٰ کا ایک ایک انچ ہماری اور امت مسلمہ کا ہے۔ دوسری جانب حماس نے عرب لیگ میں اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کے خلاف اور فلسطینی قوم کے نصب العین کی حمایت میں پیش کردہ قرار داد ناکام بنانے پرتنظیم کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق بدھ کے روز عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے وڈیو اجلاس کے موقع پر فلسطینی قوم کے حق خود ارادیت کی حمایت اور اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی مذمت میں قرارداد پیش کی گئی تھی، مگر خلیجی عرب ممالک نے مسودہ قرارداد ناکام بنا دیا۔ حماس کا کہنا ہے کہ قرارداد ناکام کرنا لیگ کے قضیہ فلسطین سے متعلق موقف میں کمزوری اور اسرائیلی ریاست کے دبائو کا واضح ثبوت ہے۔