قرآن میں کائنات کا پھیلنا، اور 3 سائنسدانوں کی شہادت

886

سورۃ الذٰریٰت آیت 47 میں ارشادِخداوندی ہے

(ترجمہ) اور آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور بلاشبہ ہم وسعت والے ہیں۔ مولانا مودودی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اصل الفاظ ہیں:

قرآن مجید میں چودہ سو سال قبل بیان کی گئی حقیقت ثابت کرنے پر تین سائنس دانوں کو نوبل انعام مل گیا۔

وَاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ میں مُوسِع کے معنی وسیع کرنے والے کے بھی ہیں۔ یعنی اللہ فرمارہا ہے کہ اس عظیم کائنات کو ہم بس ایک دفعہ بنا کر نہیں رہ گئے بلکہ مسلسل اس میں توسیع کر رہے ہیں اور ہر آن اس میں ہماری تخلیق کے نئے نئے کرشمے رونما ہو رہے ہیں۔

خبر کے مطابق اس سال امریکہ کے تین سائنس دانوں کو فزکس کا نوبل انعام دیا گیا۔ انھوں نے دریافت کیا کہ کائنات بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ان سائنس دانوں کے نام آدم ریس ( Adam Riess)، شول پیری مٹر( Saul Perimutter) اور برائن شمڈت( Brian Schmidt) ہیں۔

یہ سائنس دان جنھوں نے یہ حقیقت دریافت کی، اُن کی عقلِ سلیم اس پر گواہی دیتے ہے کہ ایک ہی ذات ہے جس کے قبضے قدرت میں سب کچھ ہے لیکن سائنسدانوں نے یہ اعتراف کرنے کے بجائے ’’سیاہ توانائی‘‘ (Dark Energy) کو اس کا سبب قرار دیا۔ قرآن کی حقانیت ثابت کرنے پر ڈیڑھ ملین ڈالر پیری مٹرکو ملیں گے جبکہ باقی ڈیڑھ ملین برابر برابر دیگر دو سائنس دانوں میں تقسیم ہوں گے۔