روہنگیوں کی نسل کشی ریاستی سرپرستی میں کی گئی،فوجیوں کا اعتراف

130
دی ہیگ: منحرف فوجی روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی سے متعلق وڈیو بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں

دی ہیگ (رپورٹ: الیاس متین) میانمر میں مسلمانوں پر ظلم وستم کرنے والے 2 فوجیوں نے فوج سے منحرف ہوتے ہوئے اعتراف جرم کرلیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق میانمر سے فرار ہونے والے 2 فوجیوں کو ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں پہنچا دیا گیا ہے اور بہت جلد انہیں عالمی فوجداری عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ دونوں فوجیوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریاست راکھین میں حکومت اور اعلیٰ فوجی عہدے داروں کی سرپرستی میں قتل عام کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ اعلیٰ افسران کے کہنے پر کئی دیہات خون میں نہلا دیے گئے اور سیکڑوں خواتین کو بے اآبرو کیا گیا۔ دونوں فوجیوں کے وڈیو بیانات علاحدہ علاحدہ ریکارڈ کیے گئے، جن میں ایک نے بتایا کہ اس نے 30 روہنگیا مسلمانوں کے اجتماعی قتل عام میں حصہ لیا اور بعد میں انہیں ایک فوجی بیس کے قریب اجتماعی قبر میں دفن کر دیا۔ انہیں ہدایت ملی تھی کہ مسلمانوں کو جہاں دیکھیں اور جس جگہ سے ان کے متعلق سن گن ملے، وہاں حملہ کرکے انہیں قتل کردیا جائے۔ اس دوران انہیں مختلف علاقوں کی جانب مسلح کرکے روانہ کیا گیا، جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ ادھر انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ میانمر حکومت ریاست راکھین میں کیے گئے قتل عام سے ڈھٹائی سے انکار کرتی آئی ہے اور عالمی فوجداری عدالت میں ناکافی شواہد کے باعث اس کے خلاف کوئی فیصلہ بھی نہیں سنایا جاسکا، تاہم اب اس کے مفرور فوجیوں کے اعترافی بیانات کے بعد کیس میں نیا موڑ آگیا ہے اور ممکنہ طور پر نیپیداؤ حکومت کسی نہ کسی طور پر دباؤ کا شکار ہوجائے گی۔ انسانی حقوق تنظیم کا کہنا ہے کہ دونوں فوجیوں کے بیانات الگ الگ ریکارڈ کیے گئے اور انہوں نے متفرق علاقوں میں کارروائی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ اس سے مقدمہ بہت مضبوط ہوجائے گا اور میانمر حکومت کو جواب دینے کا پابند بنایا جاسکے گا۔