سفید فام نسل پرست پر امریکا کیلئے خطرہ ہیں،محکمہ داخلی سلامتی

107
پورٹ لینڈ؍ اوریگون: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلح نسل پرست حامی اور پولیس اہل کار سیاہ فام تحریک کے مظاہرین پر تشدد کررہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کے محکمہ داخلی سلامتی نے ملک میں سفید فام نسل پرستوں کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکا کی اندرونی سلامتی اور دہشت گردی سے ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے تشکیل دیے گئے محکمے نے حال ہی میں امریکا کو درپیش خطرات سے متعلق ایک رپورٹ تیار کی ہے، جس میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آیندہ سال تک ملک میں ’’خوف کا ماحول‘‘ بڑھے گا جس کی وجہ یہ ہے کہ امریکا کے بعض انتہا پسند گروہوں نے حالیہ تناؤ کی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی استعداد میں اضافہ کرلیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ القاعدہ اور داعش امریکا کے لیے کم خطرے کا باعث ہیں۔ بیرونی دیگر دہشت گرد تنظیمیں امریکا میں حملوں کی کوشش کرتی رہیں گی، تاہم وہ کامیاب نہیں ہو پائیں گی۔ امریکی محکمہ داخلی سلامتی کے مطابق اس دوران ملک میں امن و امان کے لیے سب سے بڑا خطرہ وائٹ سپرمیسی (سفید فام نسل پرستی) کے علم بردار انتہا پسند گروہ ہیں۔ اس سے قبل بھی جاری کی گئی 2 رپورٹوں میں امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی ڈپارٹمنٹ سفید فام نسل پرستی کو سب سے بڑا خطرہ قرار دے چکا ہے۔ اس طبقے یا اس سے وابستہ عناصر کا ماننا ہے کہ وہ امریکا کے اصل مالک ہیں اور سیاہ فام شہریوں سمیت دیگر ممالک سے ہجرت کرکے آنے والے ان کے وسائل پر قبضہ کر کے بیٹھے ہیں۔ لہٰذا سب کو امریکا سے نکال دیا جائے۔ واضح رہے کہ امریکی شہر پورٹ لینڈ میں 100 روز سے جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں گزشتہ روز بھی ایک مظاہرہ کیا گیا تھا، جس کے شرکا پر اچانک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی اور سفید فام مسلح نسل پرستوں نے حملہ کرکے کئی افراد کو زخمی کیا۔ اس دوران پولیس کی جانب سے بھی مظاہرین ہی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سیاہ فاموں کی حالیہ احتجاجی تحریک کے دوران کئی مقامات پر سفید فام مسلح انتہا پسند مظاہرین کے راستے کی رکاوٹ بنے اور کئی مقامات پر شدید تصادم بھی دیکھنے میں آئے۔