آئیے پیکیج پیکیج کھیلیں

225

آئیے پیکیج پیکیج کھیلتے ہیں اِس پیکیج میں اور اُس پیکیج میں کیا فرق ہے جو پہلے دیے جاچکے۔ جتنا سنگین مذاق کراچی کے ساتھ کیا جارہا ہے اس کی محبت میں رو رو کر ڈرامے رچائے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کو دھرتی ماں کا حصہ قرار دے کر اس کو الگ کرنے کی سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان کردیا۔ ایک کمیٹی بنی اور اگلے دن وہ مکر گئے یا اکھڑ گئے کہ کسی کمیٹی پر اتفاق نہیں کیا اس کے اگلے دن اسلام آباد جا کر سب متفق ہوگئے۔ اب وزیراعظم کراچی آئے انہوں نے کراچی کے لیے 11 سو ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کردیا۔ بہت عمدہ پیکیج ہے ہر پہلو سے کراچی کی ضروریات کا خیال رکھا گیا ہے۔ سڑکیں، پانی، سیوریج، سالڈ ویسٹ، ٹرانسپورٹ، سرکلر ریلوے، بسیں سب کچھ تو ہے۔ لیکن ہمیں ایسا لگا کہ یہ سب کچھ سنا سنا ہے۔ چناں چہ تھوڑی ہی دیر میں سب سامنے آگیا۔ ایک پیکیج 150 ارب روپے کا تھا۔ جس کا اعلان 24 ستمبر 2015ء کو بلاول زرداری نے کیا تھا۔ اس پیکیج کے مطابق 13.7 ارب روپے کراچی کی 78 سڑکوں کی اسکیم کے لیے مختص تھے۔ 3.8 ارب روپے پلوں اور فلائی اوورز کے لیے مختص تھے۔ جب کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے لیے 45.4 ارب روپے رکھے گئے جن میں کے فور اور ایس تھری شامل نہیں کیے گئے۔ 6.6 ارب روپے جدید پارکس اور باغبانی کے لیے رکھے گئے تھے۔ اہم ترین چیز برساتی پانی کی نکاسی کے لیے نالوں کے 33 منصوبوں کے لیے 28.2 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ یقینا ان اسکیموں کو پانچ سال میں مکمل کرلیا گیا ہوگا۔ کراچی میں 78 چمکتی ہوئی سڑکوں کو تلاش کریں۔ کہیں مل جائیں تو بتادیں۔ کسی سڑک کی مرمت کرکے افتتاح کردیا گیا ہو تو اور بات ہے۔ وارٹر بورڈ کے ساڑھے پینتالیس ارب سے تو شہر کا سارا نظام ٹھیک ہوگیا ہوگا۔ یہ رقم کہاں استعمال ہوئی۔ بلاول صاحب نے جن پلوں اور فلائی اوورز کے لیے رقم مختص کی تھی اس پیکیج میں وہ پل بھی بن گئے ہوں گے اور جدید پارکس کہاں ہیں اس کے لیے ایک ارب الگ مختص کریں۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم آکر ان منصوبوں کو تلاش کرے گی جو صرف پانچ برس قبل 150 ارب روپے سے شروع کیے گئے تھے۔ اس پیکیج میں تقریباً 28 ارب روپے کمشنر کراچی کے ماتحت چند منصوبوں کے لیے مختص تھے۔ 9 ارب روپے کے دیگر منصوبے بنائے گئے تھے۔ پیپلز کراچی پیکیج پھر آگیا ہے، اور مدات میں رقوم مختص ہیں جن میں پہلے تھیں۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہ پچھلے پیکیج کے 150 ارب کا حساب دے دیں کیا کیا بنایا۔
اس سے بہت پہلے کراچی کے پہلے سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے بھی کراچی کو ایک پیکیج دیا تھا۔ یہ 29 ارب روپے کا پیکیج تھا۔ نعمت اللہ خان نے جنرل پرویز مشرف کے سامنے یہ پیکیج رکھا اور تجویز دی کہ کراچی کے اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس بلا کر ان کے ذمے رقوم لگائی جائیں۔ جنرل پرویز راضی ہوئے اور اجلاس میں طے پایا کہ 6 ارب روپے سٹی گورنمنٹ دے گی جب کہ باقی 23 ارب دیگر اسٹیک ہولڈرز دیں گے جن میں کے پی ٹی، سول ایوی ایشن، پورٹ قاسم، این ایل سی، ڈی ایچ اے، پاکستان اسٹیل، پی ایس او، پی آئی اے اور سائٹ وغیرہ شامل تھے۔ نعمت اللہ خان نے جو منصوبے پیش کیے وہ سب کے سب چار سال کے اندر مکمل ہوئے تھے۔ جب کہ کئی منصوبے ایک سال کے اندر اس طرح اسٹیک ہولڈرز کو بھاگنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ لیکن پیکیج کے اعتبار سے اب تک نعمت اللہ خان کا دیا ہوا کراچی پیکیج ہی سب سے کامیاب پیکیج رہا ہے۔ ان کی سٹی گورنمنٹ نے اس کے علاوہ بھی بہت سے کام اپنے بل پر کیے تھے۔ اب پھر پیکیج آئے ہیں، نعمت صاحب کے منصوبے اور پیکیج کو 17 برس گزر چکے اور بہت سارے کام ہوگئے کچھ کو ایم کیو ایم نے رکوادیا تھا لیکن 2015ء کے پیکیج کا حساب بھی دیا جانا چاہیے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ وفاق نے پی پی کے پروجیکٹ کا چربہ مار دیا ہے اور پی پی نے اپنا پچھلا پیکیج نکال کر اس میں رقوم کی ردوبدل کردی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو 20 سال میں 180 ارب تو پیکیج کی مد میں کراچی کو دیے جاچکے، معمول کے فنڈز الگ تھے تو کراچی پیرس کیوں نہیں بنا۔ اس کا سبب ہم بتادیتے ہیں۔ جس طرح اسپتالوں، قبرستانوں وغیرہ میں اور بعض اوقات حادثات کے موقع پر کچھ ظالم منتظر ہوتے ہیں زخمی کی جیب صاف کرتے ہیں۔ میت کی گھڑیاں اور زیورات اتارتے
ہیں یعنی مصیبت کو کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے حکمران بھی ایسی مصیبتوں اور آفات پر خوش ہوتے ہیں کیوں کہ ہنگامی حالات اور خصوصی حالات میں خصوصی فنڈز ملتے ہیں۔ ان کی زیادہ چھان بین نہیں ہوتی۔ دیگر کام اور وغیرہ میں بہت سی کارروائی کردی جاتی ہے۔ لہٰذا آفات بھی ان لوگوں کے لیے مال بنانے کا سامان ہوتی ہیں۔ گزشتہ پانچ چھ ماہ عالمی وبا کے چکر میں اربوں روپے اِدھر اُدھر ہوگئے۔ عدالتیں پوچھتی رہ گئیں ایک مریض پر 25 لاکھ کیسے اور کہاں خرچ ہوگئے لیکن کسی کو پتا نہیں چلا، امدادی رقوم کہاں گئیں۔ کون سا اسپتال کتنے میں بنا، کس اسپتال میں کتنے بستر تھے، کتنے وینٹی لیٹرز تھے، کہاں کتے لوٹتے دیکھے گئے اور کہاں مریضوں کی جان اور عزت پر بنی ہوئی تھی۔ پوری وبا میں یہ مردار خور بلائیں لوٹ کھسوٹ میں مصروف رہیں۔ ٹیسٹنگ ہو یا دوائوں کا معاملہ سرکار ہو یا پرائیویٹ سب نے خوب مال بنایا۔ اس مال کا بھی کوئی حساب نہیں۔ اب پیکیج کا بھی کوئی حساب نہیں باقی اخباری بیانات جاری رہیں گے۔ پیکیج پر عمل کسے کرنا ہے اصل کام تو باتیں ہیں چناں چہ ہمارا حصہ زیادہ کی بحث چھیڑ دی گئی۔ یہ ختم ہوگئی تو کوئی نیا شوشا چھوڑ دیا جائے گا۔ ہاں یاد آیا پیکیج کے چکر میں ہم یہ تو بھول ہی گئے کہ اپنے فلیٹ کی پارکنگ سے گٹر اور بارش کا پانی اب تک نہیں نکلا اسے کون نکالے گا۔ اس میں وفاق کا حصہ زیادہ ہوگا یا صوبے کا۔ اگر عوام بھی یہ حساب کرنے لگیں کہ ان کے علاقے کی سڑکیں بنانے، لائٹیں لگانے میں کس کا حصہ زیادہ ہے تو پھر شاید پیکیج کا کوئی فائدہ ہوجائے ورنہ خدانخواستہ اگلی تباہی اور اگلے پیکیج پیکیج کھیل کا انتظار فرمائیے۔