خام خیالی

223

عزت مآب عادل اعظم گلزار احمد نے ایک مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے تحریری حکم نامے میں کہا ہے کہ جو سرکاری ملازمین ریاستی اراضی کے غبن یا سرکاری پیسے کے فراڈ میں ملوث ہوں ان کو لمبی رخصت دینے کے بجائے برطرف کردینا چاہیے۔ عادلِ اعظم نے بجا طور پر درست فرمایا ہے مگر اس پر عمل درآمد کون کرے گا۔ کیونکہ سرکاری اراضی کے غبن اورسرکار ی پیسے کے فراڈ کرنے والے تو عموماً اہم عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے حکم نامے پر ان کے خلاف عمل درآمد کون کرے گا۔ مگر اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ عدالتوں کو یہ ہونا چاہیے وہ ہونا چاہیے کی گردان نہیں کرنا چاہیے۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ عدالتوں کو فیصلہ کرنے میں کوئی دشواری پیش آئے یا مروجہ قانون اس معاملے میںخاموش تماشائی ہو تو ججوں اور جسٹس صاحبان کو اجتہاد کرنا چاہیے کہ مہذہب ممالک میں عدالتیں ایسا ہی کرتی ہیں۔ وہاں کے جج اپنے فرائضِ منصبی ادا کرنے میں اتنے بے باک ہیں کہ امیر المومنین سیدنا عمر کے فیصلے کا زیر سماعت مقدمے پر اطلاق کرنے سے بھی نہیں گھبراتے بلکہ انتہائی دلیری اور جرأت مندی کے ساتھ اپنے حکم نامے میں اپنے فیصلے کو عمر لا کہتے ہیں۔ اور ہمارا یہ حال ہے کہ ہماری عدالتیں اسلامی قانون سے الرجک ہیں۔
شریعت کورٹ نے سود کے خلاف فیصلہ دیا تو اس وقت کے وزیر اعظم میاں نوا ز شریف عدالت عظمیٰ جا پہنچے اور اپیل تاحال التوا کا شکار ہے۔ میاں نواز شریف قانون کی گرفت میں آئے تو کئی علما نے کہا تھا کہ میاں نواز شریف اللہ میاں کی پکڑ میںآگئے ہیں۔ سود کے معاملے میں شریعت کورٹ کے فیصلے کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کرنا خدا سے جنگ کرنے کے مترادف ہے۔
میاں نواز شریف نے جنرل مشرف کے خلاف جو کچھ کیا کوئی مسلمان نہیں کرسکتا۔ جنید بغدادی کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ وہ شاہی پہلوان تھے اور خود پہلوانوں کے بادشاہ تھے ایک بار انتہائی دبلے پتلے اور ہوا کے رخ پر چلنے والے شخص نے انہیں چیلنج کیا تو سننے والے حیران رہ گئے مگر جنید بغدادی کو چیلنج قبول کرنا پڑا جب وہ اکھاڑے میں اُترے تو اس شخص نے کہا کہ جنید میں رسول پاک کا نواسا ہوں۔ میری بیٹیاں جوان ہوگئیں ہیں مگر میرے پاس ان کی شادی کرنے کا کوئی بندوبست نہیں۔ کوئی سید زادہ زکوٰۃ یا خیرات نہیں لیتا۔ جنید بغدادی نے اس کی بپتا سنی تو بہت دل گرفتہ ہوئے اور کُشتی ہار گئے تاکہ اسے انعام واکرام سے نوازا جائے اور وہ اپنی بیٹوں کی شادی عزت واحترام سے کرسکے۔ خدا اور خدا کے رسول کو اس کا یہ فعل اتنا بھایا کہ ولایت سے نواز دیا۔ یوں جنید پہلوان جنید بغدادی بن گئے۔
میاں نوازشریف بہت دین دار اور اللہ والے بندے ہیں مگر وزیر اعظم بنتے ہی وہ دین دار رہے اور نہ اللہ والے بس شہنشاہِ معظم بن گئے۔ مگر ان کے تکبر نے انہیں دین کا چھوڑا نہ دنیا کا۔ جو لوگ دین چھوڑ کر دنیا کو اپناتے ہیں انہیں اپنے اپناتے ہیں نہ غیر اپنوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ عدالت نے سابق وزیر اعظم کو دس ستمبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ حکم بھی صادر کیا ہے کہ اگر میاں نواز شریف پیشی پر نہ آئے تو انہیں اشتہاری قراد دیا جائے گا۔ اور لندن میں موجود ہائی کمشنر کو یہ حکم دیا جائے گا کہ وہ میاں نواز شریف کو گرفتار کرکے پاکستان روانہ کریں سوال یہ ہے کہ اس حکم سے عدلیہ کو کیا حاصل ہوگا سوائے اس کا وقار مجروح ہو اور دنیا میں بے توقیری ہو۔ کیونکہ دنیا کا کوئی قانون زیر علاج مریض کو پکڑ کر جیل میں نہیں ڈال سکتا۔ یوں بھی سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف علاج کے لیے لندن گئے ہیں اور ان کا علاج کے لیے باہر جانا حکومت اور عدلیہ کی مرضی کے مطابق ہے۔ اس پس منظر میں عدالیہ کا یہ حکم نامہ کہ میاں نواز شریف کا پکڑ کر جیل میں ڈال دیا جائے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ عدلیہ کے حکم نامے کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ مسلم لیگ نواز نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو پیغام بھیجا ہے کہ وہ جب تک زیرعلاج ہیں پاکستان نہ آئیں۔ حالات و واقعات بتا رہے ہیں کہ عمران خان کی مدت پوری ہونے پر الیکشن کرائے جائیں گے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کا تحفہ دینے والی حکومت کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ من مانی کرے۔ سو یہ سوچنا کہ آنے والے الیکشن بھی عمران خان کے نام ہوگا خام خیالی ہے۔