برقی پیوندکاری: نابینا افراد کیلئے امید کی ایک کرن

210

سوئٹزرلینڈ اور اٹلی کے سائنسدانوں نے ایک برقی پیوند بنایا ہے جو نابینا افراد کے لیے روشنی کی کرن ثابت ہوسکتا ہے۔

ای پی ایف ایل سوئزرلینڈ اور اٹلی کے اسکولا سوپیریئرسانٹ اینا انسٹی ٹیوٹ نے ایک ایسی ٹیکنالوجی وضع کی ہے جو آنکھ کے ڈیلے کو بائی پاس کرتے ہوئے براہِ راست دماغ سے رابطہ کرتی ہے۔ اس کے لیے آنکھ کے بصری اعصاب (آپٹک نرَو) میں برقیروں (الیکٹروڈٌ) سے بھرا ایک پیوند (امپلانٹ) لگایا گیا ہے جسے آپٹک سیلائن کا نام دیا گیا ہے.

اس کی تفصیلات بایومیڈیکل انجینیئرنگ میں شائع ہوئی ہے۔ یہ پیوند نظر کےاعصاب کو تقویت دیتا ہے جس سے کچھ نہ کچھ بصارت بحال ہوجاتی ہے۔ یہ طریقہ مکمل طور پر نابینا افراد کے لیے امید کی ایک کرن بن سکتا ہے۔

اس تکنیک میں روشنی کو براہِ راست دیکھے بنا مریض کو سفید خدوخال (پیٹرن) دکھائے جاتے ہیں۔ اس میں آنکھ کے ریٹینا پر مصنوعی پیوند لگائے جاتے ہیں اور وہی روشنی کو محسوس کرتے ہیں تاکہ آنکھ اور اس کے سگنل براہِ راست دماغ تک جاتے ہیں جس میں آنکھ کو مکمل طور پر بائی پاس کردیا جاتا ہے۔