اسرائیلی جیل میں 18 سال سے قید فلسطینی تشدد کے بعد قتل

209

اسرائیل کی ایک جیل میں چند ماہ بعد سزا ختم کرکے رہا ہونے والے فلسطینی قیدی کو دوران حراست قتل کردیا گیا جس کے بعد جیل میں کشیدگی بڑھ گئی۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق 45 سالہ قیدی داؤد الخطیب پچھلے 18 سال سے سزا کاٹ رہا تھا۔ داؤد کی چند ماہ میں سزا کی مدت پوری ہونا تھی کہ اس سے قبل داؤد کو قتل کردیا گیا۔

فلسطینی قیدی سوسائٹی (پی پی سی) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ داؤد الخطیب کو آفر جیل پولیس نے بےرحمانہ تشدد کے بعد قتل کیا۔ جس کے بعد ساتھی قیدیوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔

پی پی سی کے مطابق قیدیوں نے احتجاجاً بھوک ہڑتال اعلان کیا جس پر جیل حکام نے ان قیدیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے 26 کو زخمی کردیا۔

سربراہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) اور زیرِ حراست افراد کے امور کے ماہر قادری ابوبکر کا کہنا ہے کہ جیل انتظامیہ اپنی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے قیدیوں کی آواز کو دبانا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیل انتظامیہ بین الاقوامی قوانین اور کورونا وائرس کے لیے عالمی ادارہ صحت کے پروٹوکول کی بھی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

قادری ابوبکر کے مطابق احتجاج کرنے کے جرم میں جیل حکام نے 14 قیدیوں کو دیگر سے الگ کردیا ہے اور ان میں سے 7 قیدیوں کو سخت سزا دی جائے گی۔