ہمارا تعلیمی نظام اور نئی قومی تعلیمی پالیسی

243

حکومت نے ملک میں یکساں تعلیمی نظام اور نصاب لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پر کافی حد تک کام ہوچکا ہے۔ سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں نے اس پر اتفاق کرلیا ہے، اُمید ہے کہ سندھ بھی راضی ہوجائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ فیصلہ بحیثیت مجموعی ایک قوم ہماری بنیادی سوچ کو بدل دے۔ 47ء کے بعد سے جس غلطی کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں اس کا ازالہ ہوجائے۔ اس پر بات کرنا لاحاصل ہے کہ پاکستان میں نظام تعلیم کو کیوں برباد کیا گیا۔ اس پالیسی کو مسلسل رکھا گیا جس کا مقصد ذہنی طور پر ایک پسماندہ قوم بنانا تھا جو اپنے آقائوں (انگریزوں) کی غلامی کرسکے۔ پھر سفید کی جگہ کالے آقا بن گئے۔ اپنے بچوں کے لیے انہوں نے اعلیٰ معیاری تعلیمی نظام اے او لیول اور دیگر کو پسند کرلیا جہاں سے ان کے بچے افسر بن کر نکلتے اور حکمرانی کرتے رہے اور یہی وہ نظام ہے جس کو تبدیل کرنا ناممکن ہے۔ بات نصاب یا نظام کی نہیں ہے۔ سوچ کی ہے ایک طبقہ ایلیٹ کلاس ہے اس سسٹم کو تبدیل نہیں ہونے دیتا کہ تبدیلی سے غریب کا بچہ بھی افسر بن سکتا ہے اور امیر کا بچہ کلرک۔ اگر نظام تبدیل نہیں ہوگا تو امیر کا بچہ افسر ہی بنے گا چاہے وہ اچھا افسر نہ ہو۔ کون سے والدین اپنی اولاد کے ساتھ یہ دشمنی کرنا چاہیں گے۔
ملک میں طبقاتی تعلیم کے تین بنیادی درجے ہیں۔ سرکاری اور پرائیویٹ سیکنڈری اسکولوں کا نظام جہاں پڑھنے والوں کی مثال آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والی ہے کہ افسر کی تگ و دو میں کلرک اور کلرک سوچ رکھنے والے پیدا ہورہے ہیں۔ دوسرا درجہ اے اور او لیول تعلیم ہے۔ ملک کی سرکاری زبان انگریزی ہونے سے یہ لوگ فائدے میں رہتے ہیں۔ بیوروکریٹ بن کر عوام پر حکومت کرتے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقہ اس تعلیمی نظام کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتا۔ یہی جابر اور استیصالی طبقہ ہے۔ تیسرا مظلوم طبقہ مذہبی تعلیم سے وابستہ ہے کہ جس کا اختتام عزت و اطمینان پر ہے مگر معاشی لحاظ سے کچھ حاصل نہیں۔ سفید کپڑے، خوشبودار ماحول مگر پیٹ خالی اور کسی بھی وقت کسی بھی عقیدے یا نکتے پر آسانی سے راہ سے ہٹ جانے پر مجبور۔
اس طرح یہ تینوں نظام ہی خراب ہیں اور اس کی مثال انتہائی ترقی پزیر اور غلام ملکوں میں ملتی ہے۔ پاکستان جیسے نظریاتی ملک میں اس طرح کے مختلف نظام ملک کی جڑوں کو کھودنے کے مترادف ہے۔ علی گڑھ کالج، دہلی کالج، ڈھاکا یونیورسٹی یا جامعہ ملیہ وغیرہ سے جو غیر معمولی لوگ فارغ التحصیل ہوتے تھے، اس کی وجہ انگریزی نہیں بلکہ اپنی زبان میں نصاب اور انگریزی بطور زبان پڑھ کر اس میں کُلّی مہارت حاصل کرنا تھا۔ انگریزی کی اہمیت اپنی جگہ ہے، یہ انٹر نیٹ کی زبان ہے، بین الاقوامی رابطے کی زبان ہے مگر بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ اس سے ہاتھ ملانا تھا اور اسے گلے لگالیا۔ یعنی انگریزی سیکھنا تھا بطور زبان پڑھنا تھا مگر ہم نے اپنا نصاب ہی انگریزی میں تیار کرلیا اور رٹا لگانے والی قوم تیار کی جس نے اپنی خداداد تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی زحمت نہیں کی اور یوں پسماندہ قوم تیار کی۔ مغرب نے ہماری تسلی تشفی کے لیے لاکھوں میں ایک کے مصداق ہمارے کچھ ہیرو تخلیق کیے، کم عمری میں مہارتوں پر ایوارڈ دیے اور بحیثیت قوم مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ ہم میں ٹیلنٹ ہے اور ہم ان ایوارڈز سے مطمئن ہوگئے اور اپنا قبلہ درست کرنے کی کوشش نہیں کی، بنیادیں ٹیڑھی اور کم زور رہیں اور اوپر کی تعمیرات میں تبدیلیاں کرتے رہے۔ اب حکومت کی قومی پالیسی سے امید ہوچلی ہے کہ شاید بحیثیت قوم ہماری ترجیحات کا تعین درست سمت میں ہوسکے۔
قومی پالیسی کے خدوخال کچھ واضح ہیں کہ تعلیم کا ماخذ قرآن و سنت اور اس کے بعد قائد اور اقبال کے افکار اور نظریات ہیں۔ سائنس اور حساب کو خاص طور پر زمانے سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ انگریزی کو بطور زبان پڑھانا اور پرائمری تک قومی اور مقامی زبان میں تعلیم دنیا احسن اقدام ہیں۔ عربی اور فارسی جو ہمارے نصاب کا ناگزیر حصہ ہوا کرتی تھیں۔ ان کی بدولت اور سیکھنے اور سمجھنے میں آسانی ہوتی تھی۔ اس پر بھی سوچا جائے۔ نئی حکومتی تعلیمی پالیسی کس حد تک موثر رہے گی۔ سندھ اپنی ہٹ دھرمی ختم کرے گا یا وڈیرا شاہی سوچ کے آگے بے بس رہے گا۔ یہ سب کچھ وقت کی دبیز تہہ میں پوشیدہ ہے مگر یہ کہنا ضروری ہے کہ سب کچھ ہوسکتا ہے، اگر نیت اور اخلاص سے کیا جائے اور اس معاملے میں بلاوجہ کی نکتہ چینی سے گریز کرنا چاہیے، یہ دور رس فیصلہ ہے جس کے ثمرات سے ایک نئی قوم بنے گی۔