اسرائیل عرب معاہدہ: دجال کے عرب میں داخل ہونے کا پیشِ خیمہ

922

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز حضورؐ نے ہمیں دجال کے بارے میں بہت لمبی حدیث بیان کی ، اس حدیث کی اثناء میں آپؐ نے یہ فرمایا:

 دجال نکلے گا اور مدینہ کی گھاٹیوں میں داخل ہونا اس پر حرام ہوگا ، وہ مدینہ کے قریب بعض بنجر زمینوں میں چلا جائے گا۔

دوسری جانب ارشاد ہے:

ﺪﺟﺎﻝ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﻣﻤﻨﻮﻉ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﻭﮦ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﮯ ﻣﻀﺎﻓﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺑﻨﺠﺮ ‏( ﺳﯿﻢ ﺯﺩﮦ ‏) ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﻤﮧ ﺯﻥ ﮨﻮﮔﺎ۔

ایک اور روایت میں ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مکہ اور مدینہ کے علاوہ کوئ ایسا علاقہ نہیں ہوگا جسے دجال نہ روند سکے۔ مکہ اور مدینہ کے ہر راستے پر فرشتے ننگی تلواریں سونتے ہوۓ پہرا دیں گے پھر مدینہ اپنے مکینوں کے ساتھ تین مرتبہ ہلے گا تو اللہ تعالی ہر کافر اور منافق کو مدینہ سے نکال دے گا (جو دجال سے آکر ملیں گے) صحیح بخاری ( 1881 ) صحیح مسلم (2943)۔

اب ان حدیثوں کے تناظر میں اگر آج کے بین الاقوامی حالات کا جائزہ لیا جائے تو دجال کے عرب میں داخل ہونے کا وقت بہت قریب نظر آرہا ہے۔ پہلی بات تو یہ ذہن نشین ہونی چاہیے کہ عرب ممالک میں داخلے اور وہاں سکونت و شہریت کے حوالے سے قانون بہت سخت ہیں۔ دجال، جیسے  متعدد حدیثوں سے ظاہر ہے کہ  پوری  دنیا کا سفر کرے گا اور اس کا ساتھ دینے والے اکثر یہودی ہوں گے۔

اب حالیہ دنوں میں اسرائیل و عرب ممالک کے درمیان امن معاہدے ہورہے ہیں اور اس میں وقت کے ساتھ دیگر اسلامی ممالک بھی شامل ہوتے جارہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس معاہدے کے اثرات بہت جلد رونما ہورہے ہیں اور عرب ممالک کسی بھی ہچکچاہٹ کے بغیر اس کو اہلاً و سہلاً کرتے نظر آرہے ہیں۔  یقیناً یہ سب دجال کے عرب میں داخل ہونے پر منتج ہوگا کیونکہ دجال غیر قانون طریقے یا چوری چھپے تو عرب میں داخل ہونے سے رہا۔

عرب حکومت خود دجال کو اپنی مقدس سرزمین پر پیش رفت کرنے کا موقع فراہم کرے گی اور اس بات کا اندازہ اوپر دی گئی احادیث سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اُس وقت حکومت کو مکہ و مدینہ کی حفاظت کا بھی کچھ ہوش نہ ہوگا جس کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ کو فرشتوں کو ان مقاماتِ مقدسہ کی حفاظت پر مامور کرنا پڑے گا۔

احادیث کی دیگر روایتوں میں یہاں تک آیا ہے کہ دجال مدینہ کے پاس کسی ٹیلے پر اپنے چیلوں (غیر مسلموں) کے ساتھ پڑاؤ ڈالے گا اور گنبدِ خضرا کو اپنی ناپاک نظروں سے دیکھے گا۔ یہ سب اسی معاہدے کا نتیجہ ہوگا جس پر آج غیر عرب مسلم  دنیا شکوہ کنعاں ہے لیکن عربوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

آج اسرائیل  کے فلسطینیوں پر ظلم روا رکھے جانے اور مسجد اقصیٰ کوڈھا نے کی کوشش کے باوجود عرب نے اس کے ساتھ امن معاہدہ کیا ہےاور فضائی حدود کو استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ کَل یہی عرب اس کو سرزمین پر اترنے کا موقع دے گا اور پھر وہاں سکونت اختیار کرنے کی اجازت دے گا مگر مجال ہے جو عرب  اسرائیل کو اس کے شر سے باز رکھنے کی کوشش کرے ، فلسطینی معصوم بچوں و جوانوں کو قتل کرنے پر ٹوک دے یا سرحدی حدود کی غیر قانونی توسیع اور وہاں کے مقامی مسلمانوں کو بے گھر کرنے پر کمزور ہی سہی ، احتجاج کرے۔