کے ایم سی کے محکمہ انجینئرنگ میں چیف انجینئر کے عہدے پر مشکوک ملازمت رکھنے والے نجیب احمد تاحال تعینات

289

کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری) بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ انجینئرنگ کے اہم اور پرکشش چیف انجینئر کے عہدے پر مشکوک ملازمت رکھنے والے نجیب احمد تاحال تعینات ہیں۔ من پسند افسران کو نوازنے کے لئے کے ایم سی کے بجٹ میں جعلسازی اور ملی بھگت کے ذریعے چیف انجینئر سول گریڈ۔20 کی 2 اضافی پوسٹ شامل کی گئیں تھیں، دونوں پوسٹیں 2018۔2017 کے بجٹ میں شامل کی گئیں۔

گریڈ۔19 اور گریڈ۔20 کی پوسٹیں شامل کرنے کی مجاز اتھارٹی وزیر اعلی سندھ سے منظوری بھی نہیں لی گئی، سابق ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرہ، سابق میونسپل کمشنر حنیف مرچی والا، سابق سینئر ڈائریکٹر ایچ۔آر۔ایم محمود الحسن، سابق ڈی۔جی۔ ٹیکنیکل سروسز شہاب انور، و دیگر کے پرانی تاریخوں میں دستخط اور غیر قانونی منظوری حاصل کرکے یہ کارنامہ انجام دیا گیا ہے۔

کے ایم سی افسران کا ایڈمنسٹریٹر کراچی سے نجیب احمد کو عہدے سے فارغ کرکے اصل محکمے میں بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔بلدیہ عظمیٰ کراچی میں من پسند افسران کو نوازنے کے لئے قوائد کے برخلاف اہم اور پرکشش عہدوں پر تعیناتیاں عام ہوچکی ہیں 2018-19میں دو منظور نظر افسران کو نوازنے کے لئے محکمہ انجینئرنگ میں حیرت انگیز طور پر دو اضافی پوسٹ بنا ئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق موجودہ مشکوک ملازمت کے حامل چیف انجینئر نجیب احمد اور شبیہ الحسن کو گریڈ۔20 میں ترقی دینے کیلئے یہ ڈرامہ رچایا گیا اور قواعد و ضوابط کے برخلاف اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کی توہین کرتے ہوئے یہ جعلسازی اور فراڈ کیا گیا۔

یاد رہے کہ 2008 تک انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ بلدیہ عظمی کراچی میں کے۔ایم۔سی۔ سروس کے صرف اسسٹنٹ ایگزیکیٹیو انجینئر سول گریڈ۔17 کی 4 پوسٹ ہوتی تھی جن پر آفتاب الہی، برہان الدین، سیما پروین، اور شبیہ الحسن، براجمان تھے۔

2008 میں سابق ناظم کراچی مصطفی کمال کے دور میں گریڈ۔17 کی 4 پوسٹ کو اپ گریڈ کرکے گریڈ۔18 ایگزیکیٹیو انجینئر کردیا گیا اس طرح ان مذکورہ چاروں اسسٹنٹ ایگزیکیٹیو انجینئر سول گریڈ۔17 کو پوسٹ آپ گریڈ کرکے گریڈ۔18 دے دیا گیا۔

اس طرح 2008 میں پہلی بار کے۔ایم۔سی۔ سروس انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ 4 ایگزیکیٹیو انجینئرز سول کی پوسٹیں وجود میں لائی گئی جبکہ آج بھی انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے۔ایم۔سی۔ سروس میں سپرنٹنڈنگ انجینئر سول گریڈ۔19 کی ایک بھی پوسٹ بجٹ بک میں شامل نہیں ہے۔

یہی وجہ تھی کہ سابق ناظم مصطفی کمال نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے شبیہ الحسن کو صرف ایک سال سے بھی کم عرصے میں آوٹ آف ٹرن گریڈ۔19 میں پروموشن دیکر نوازا اور کے۔ایم۔سی۔ سروس کی بجٹ بک میں سپرنٹنڈنگ انجینئر سول گریڈ۔19 کی پوسٹ سرے سے تھی ہی نہیں اس شبیہ الحسن کو آوٹ آف ٹرن ترقی دینے کے بعد اس کی تنخواہ کے۔ڈی۔اے۔ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ میں ایڈجسٹ کروائی گئی۔

یاد رہے اسوقت سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی تھی اور کے۔ڈی۔اے اور کے۔ایم۔سی۔ اسی گورنمنٹ کا حصہ تھے۔ نجیب احمد کے بارے میں باوثوق ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ 1988۔1987 میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں براہ راست گریڈ۔17 میں اسسٹنٹ ایگزیکیٹیو انجینئر سول بھرتی ہوئے پھر کچھ عرصے بعد ڈیپوٹیشن پر زیڈ۔ایم۔سی۔ سینٹرل میں بھی کام کرتے رہے۔

پھر یہ کینیڈا چلے گئے اور ایک طویل عرصہ کینیڈا میں گزارنے کے بعد جب دوبارہ واپس آئے تو کے۔ایم۔سی۔ سولڈ ویسٹ ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے لگے بعد ازاں سٹی گورنمنٹ بننے کے بعد محکمہ میونسپل سروسز کا حصہ رہے اور گریڈ۔18 کا پروموشن بطور ڈپٹی ڈائریکٹر سولڈ ویسٹ حاصل کیا اور کچھ عرصے بعد ہی ڈائریکٹر سولڈ ویسٹ گریڈ۔19 کی نئی آسامی بجٹ بک میں شامل کرکے نجیب احمد نے گریڈ۔19 میں بطور ڈائریکٹر سولڈ ویسٹ میونسپل سروسز ڈپارٹمنٹ پروموشن حاصل کیا۔

بعد ازاں سابقہ بلدیاتی حکومت کے آتے ہی جب سابقہ میئر وسیم اختر جیل میں تھے اور قائم مقام میئر کا چارج ارشد وہرہ کے پاس تھا اس زمانے میں یعنی 2018۔2017 میں نجیب احمد نے غیرقانونی طور پر بغیر مجاز اتھارٹی وزیر اعلی سندھ کی منظوری کے، جعلسازی اور ملی بھگت کرکے اور بھاری رشوت دیکر انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے بجٹ میں چیف انجینئر سول گریڈ۔20 کی دو نئی پوسٹیں شامل کروائیں۔

اندورنی طور پر پرانی تاریخوں میں بوگس ڈی۔پی۔سی۔ کی میٹنگ کاغذات میں دکھا کر بغیر کسی قانونی مجاز اتھارٹی کی منظوری، ایڈوائس، و آرڈر، کے بغیر سابقہ میئر وسیم اختر کے آنے اور چارج لینے کے بعد پرانی تاریخوں میں ارشد وہرہ، حنیف مرچی والا، محمود الحسن، شہاب انور، و دیگر سے دستخط کرواکر، شبیہ الحسن اور اپنا بطور چیف انجینئر سول گریڈ۔20 میں پروموشن آرڈر جاری کروالیا اور ساتھ ہی تنخواہ بھی ایڈجسٹ کروالی اور پوسٹنگ بھی حاصل کرلی۔

جبکہ قانون کی نظر میں مذکورہ سارا عمل نہ صرف سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کی توہین ہے بلکہ سراسر خلاف قواعد و ضوابط بھی ہے لیکن آج تک کے۔ایم۔سی۔ کے متعلقہ اعلی حکام جن میں ڈی۔جی۔ٹیکنیکل سروسز اقتدار احمد، سینئر ڈائریکٹر ایچ۔آر۔ایم۔ جمیل احمد فاروقی، میونسپل کمشنر و پرنسپل اکاونٹ آفیسر کے۔ایم۔سی۔

ڈاکٹر سیف الرحمن نے نجیب احمد اور شبیہ الحسن کے خلاف ایکس کیڈر، آوٹ آف ٹرن، اور غیر قانونی تخلیق شدہ پوسٹوں پر پروموشنز لینے کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی اور نہ ایڈمنسٹریٹیو ڈپارٹمنٹ لوکل گورنمنٹ سندھ نے کے ایم سی میں کی جانے والی انتظامی بے قائدگیوں پر حکام سے باز پرس کی جس کے باعث نجیب احمد کے ایم سی کے ملازم نا ہونے کے باوجود ناصرف اہم عہدے پر براجمان ہیں بلکہ اپنے اختیارات کا فائدہ اْٹھا کر ادارے کونقصان پہنچانے میں بھی مصروف ہیں۔