140

1965 کی جنگ میں پاکستان کی بحری افواج کا کردار
ارمغان نعیم خان

ستمبر کا مہینہ آتے ہی 1965ءکی پاک بھارت جنگ کا نقشہ ذہن میں آنے لگتا ہے جو معرکہ حق و باطل کی صورت میں 6ستمبر1965ءکو اس وقت شروع ہوا جب بھارت نے اچانک رات کی تاریکی میں پاکستان کی سرحدوں پر اس خوش فہمی کا شکار ہو کر شب خون مارا کہ اس کی عددی برتری کے باعث پاکستان کے لئے جنگی دفاع مشکل ہو گا۔مگر یہ بھارت کی بہت بڑی بھول تھی۔پاکستانی افواج نے پاکستانی قوم کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے اپنے ملک کی سرحدوں کا بھر پور دفاع کیا اور بھارتی سور ماو ¿ں کے منصوبے خاک میں ملا دئیے۔پاکستان کی بری فوج نے لاہور، قصور، سیالکوٹ، کشمیر اور راجستھان کے میدانوں میں دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جبکہ پاک فضائیہ نے نہ صرف اپنی افواج کی بھر پور فضائی مدد کی، بلکہ دشمن کے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری اور فضائی لڑائی کے دوران دشمن کے کئی لڑاکا طیارے مار گرائے۔
1947ءسے لے کر 1965ءتک پاک بحریہ نے شبانہ روز محنت کے باعث اپنے آپ کو ایک بحری قوت کے طور پرمنظم کیا تھا۔جدید ساز و سامان کے حصول کے علاوہ پاک بحریہ نے اپنی سپاہ کی تربیت پر بھی بھر پور توجہ دی تھی جس کا مظاہرہ پاک بحریہ نے 1965ءکی جنگ میں بھرپور طریقے سے کیا۔
یکم جون 1964ءپاک بحریہ کی تاریخ میں ایک یاد گار دن تھا۔ اس دن پاک بحریہ کی پہلی آبدوز بحری بیڑے کا حصہ بنی۔ پاک بحریہ کی اعلیٰ قیادت نے اس آبدوز کا نام ”غازی“ رکھا۔اس آبدوز کے بحریہ میں شامل ہونے سے پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا اور پاکستان کاسمندری دفاع مزید مضبوط ہو گیا۔غازی بھارتی بحری بیڑوں کے لیے موت کے پیغام سے کم نہیں تھی۔طویل فاصلے تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھنے والی اس آبدوز سے پورے بھارت کا کوئی ساحل بھی محفوظ نہیں تھا۔رن کچھ کے معرکے کے بعد سے ہی حالات کشیدہ چلے آرہے تھے۔ ان بگڑے ہوئے حالات کے باعث پاک بحریہ کو جو ذمہ داریاں سونپی گئیں وہ یہ تھیں۔
۱۔ پاکستان کی سمندری سرحدوں کی حفاظت کرنا۔ ۲۔ سمندری تجارت اور جہازرانی کے راستوں کو محفوظ بنانا۔
۳۔ تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کرنا۔ ۴۔بھارتی بحریہ کی نقل و حرکت کو محدود کرنا۔
۵۔مشرقی پاکستان میں بری فوج کی امداد کرنا۔
یہ تمام ذمہ داریاں نہایت اہم تھیں جن کو پورا کرنا ملکی دفاع کے لیے نہایت ضروری تھا۔ خاص طور پر سمندری سرحدوں کی حفاظت اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کو ہر حال میں کھلا رکھنا نہایت ضروری تھاتا کہ تجارتی بحری جہاز اپنی تجارتی سرگرمیاں بلا روک ٹوک جاری رکھ سکیں۔ پاک بحریہ اس صورت حال سے بخوبی واقف تھی اور عزم رکھتی کہ پاکستان کی سمندری حدود کو ہر حال میں محفوظ رکھا جائے گا۔ چنانچہ پاک بحریہ کی اعلیٰ قیادت نے اس سلسلے میں مناسب حکمت عملی ترتیب دے دی۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ بحیرہ عرب میں رہ کر بھارتی جنگی جہازوں کا انتظار کرنے کے بجائے کیوں نہ جارحانہ طرز یعنی Proactive Approachاپناتے ہوئے بحر ہند میں جا کر بھارتی سمندری حدود کے اندر بھارتی بحریہ کو للکار ا جائے۔
اس حکمت عملی کو منظور کرنے کے بعد پاک بحریہ کی اعلیٰ قیادت نے یہ کام آبدوز ”غازی“ کو سونپا کہ وہ زیر آب رہتے ہوئے کراچی کے ساحل سے لے کر مشرقی پاکستان کے چٹا گانگ ساحل تک سمندری نگرانی کرے اور اس دوران جہاں کہیں بھی بھارتی بحری بیڑوں کی موجودگی نظر آئے ان کونشانہ بنائے۔ اسی طرح سے پاک بحریہ کے لڑاکا بحری جہاز بھی اپنی اپنی ذمہ داری کے علاقوں میں بحری گشت پر معمور تھے۔
اس بحری حکمت عملی کے باعث بھارتی بحری ہیڈ کوارٹر میں کھلبلی مچ گئی۔ بھارتی سورما پاک بحریہ خصوصاً ”غازی“ آبدوز سے سخت خوفزدہ تھے۔ ان کو سب سے زیادہ فکر اپنے طیارہ بردار بیڑے ”وکرانت“کی تھی جو کھلے سمندر میں اس قدر بڑا ہدف تھا کہ غازی اسے چند لمحوں میں یوں تباہ کر دیتی کہ وہ اپنے ہوائی، جہازوں سمیت غرقاب ہو جاتا۔ چنانچہ بھارتی بحریہ نے ”وکرانت“ کو سات سو کلو میٹر دور جزائر اندامان میں لے جا کر چھپا دیا۔ بحرہند میں غازی کی موجودگی کے باعث کوئی بھارتی بحری جہاز سمندر میں نکلا ہی نہیں۔ صرف اس خوف سے کہ کہیں وہ سمندر میں نکلتے ہیں غازی کا نشانہ نہ بن جائے۔ پوری بھارتی بحریہ کو ساحلوں تک محدود رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج تھا جسے پاکستان بحریہ نے بہترین طریقے سے پورا کیا۔
بھارتی بحریہ کی دوسری بہت بڑی کامیابی ”آپریشن سومناتھ“ جسے آپریشن دوارکا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پاک بحریہ کو سونپی جانے والی ایک بہت بڑی ذمہ داری تھی۔ بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو بھارتی فوج کے ساتھ ساتھ بھارتی ائیر فورس بھی خوب سر گرم عمل تھی۔ کراچی کو اہم ترین شہر ہونے کے ساتھ ساتھ بندر گاہ ہونے کے باعث بھارتی فضائی حملوں کا سامنا تھا۔ جس تواتر کے ساتھ یہ حملے کئے جا رہے تھے صاف معلوم ہو رہا تھا کہ کوئی زمینی ریڈار اسٹیشن بھارتی فضائیہ کی بھر پور رہنمائی کررہا ہے۔ پاکستان نیوی کی انٹیلیجنس کو سر توڑ کوشش کے بعد یہ اطلاع ملی کی بھارت نے دوارکا کے ساحل پر ریڈار اسٹیشن قائم کر رکھا ہے جو بھارتی ہوائی جہازوں کی رہنمائی کا کام کر تا ہے۔ یہ اطلاع ملتے ہی پاک بحریہ کی اعلیٰ قیادت اس بات پر متفق ہوگئی کہ اس ریڈار اسٹیشن کو تباہ کیا جانا نہایت ضروری ہے ورنہ بھارتی ائیر فورس کے حملے بند نہیں ہوں گے۔
یہ کام ائیر فورس کو نہیں سونپا جا سکتا تھا کیونکہ ریڈار اسٹیشن فضائی حملے سے بر وقت آگاہ ہو جاتا چنانچہ یہ کام پاکستان نیوی کو سونپا گیا۔ یہ ایک نہایت خطر ناک آپریشن تھا کیونکہ پاک بحریہ کے بیڑے کو بھارتی سمندری حدودکے بہت اندر تک جا کر اس مشن کو پورا کرناتھا۔ حکم ملتے ہی وقت ضائع کیئے بغیر پاک بحریہ کے جنگی بحری جہاز شاہ جہان، بدر، بابر، خیبر،جہانگیر، عالمگیر،ٹیپو سلطان 7 ستمبر 1965ءکو اپنے مشن پر روانہ ہو گئے۔اس بحری بیڑے کی قیادت کمانڈر پاکستان فلیٹ کموڈور ایس ایم انور کر رہے تھے۔ان کا مشن تھا رات کی تاریکی میں دوارکا کے ریڈاراسٹیشن کو تباہ وکیا جائے جو کہ یقینا ایک نہایت مشکل مشن تھا۔پاک بحریہ کے یہ مجا ہد اللہ پرتوکل کئے اپنی جان ہتھیلی پرلئے دشمن ملک کی حدود کے اندر اس پر کاری ضرب لگا نے جا رہے تھے۔پاکستان نیوی کے ہر سیلر کے دل میں پایا جانے والا شوقِ شہادت کا جذبہ انھیں تمام خطرات کے باوجود اپنے ارادوں میں مزید مضبوط بنا رہا تھا۔ پاک بحریہ کے تمام جہاز وں نے نہائیت اطمنان سے اپنا مشن مکمل کیا اورواپسی کی راہ لی ۔اس تمام واقعے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ تو بھارتی بحریہ کے جہاز مقابلے کیلئے سامنے آئے اور نہ ہی بھارتی ایئر فورس نے پاکستانی جہازوں پر کوءحملہ کیا۔اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دشمن کس قدر بوکھلاہٹ اور خوف کا شکار تھا۔پاکستانی جہاز ڈیڑھ سو کلومیٹر بھارت کے اندر آئے اور تباہی کر کے چلے گئے مگر بھارتی افوج دبک کر بیٹھی رہیں۔
پاک بحریہ کی کامیابیوں کی داستانیں یوں تو بہت طویل ہیں مگر 1965ءکی جنگ کے حوالے سے ذکر کیا جائے تو سمندری حدود کی حفاظت اور بھارتی بحریہ کواس کے اپنے ساحلوں تک محدود رکھنا دو اس قدر بڑے کام تھے جس پر پورے ملکی دفاع کا دارو مدارتھا ۔ دشمن کے لیے خوف کی علامت پاک بحریہ آج ایک خود مختار اور جدید سازو سامان سے لیس بحری قوت ہے جو بحیرہ عرب کے علاوہ دنیا کے دیگر بحری خطوں میں اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دے رہی ہے اور ملکی دفاع کی خاطر کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے