پاکستان میں خواتین سمیت کسی کی جان ،مال وعزت محفوظ نہیں ،سراج الحق

140
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اسلام آباد میں ملائیشیا کے ہائی کمشنر سے ملاقات کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے بعد وحشیانہ طریقے سے قتل کرنے والے مجرموں کو پھانسی کی سزا دینے کی سزا تجویز کرتے ہوئے زینب الرٹ بل کے سیکشن 15 میں ترامیم پیش کر دی ہیں، انہوں نے سیکشن 15 میں تعزیرات پاکستان کی مزید دفعات 201 ،302 اور 376 کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیاہے۔اس کے علاوہ سیکشن 15 کے آخر میں شرطیہ پیراگراف شامل کرنے کی ترمیم دی ، اس ترمیم میں کہا گیا ہے کہ اگر متاثرہ بچہ یا بچی کو زنا بالجبر یا کسی اور ظالمانہ طریقے سے قتل کر دیا جاتا ہے تو مجرم کو سزا ئے موت سے کم کوئی سزا نہیں دی جائے گی، اس ترمیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی پولیس آفیسر اس مقدمے میں غفلت سے کام لے گا تو اس کو بھی سزا بھگتنا پڑے گی۔سینیٹر سراج الحق نے پیر بخاری کالونی بلاک اے کراچی کی رہائشی 5 سالہ بیٹی مروہ کے اغوا ،ریپ اورشناخت کو مٹانے کے لیے جلا کر قتل کی شدید مذمت پر مبنی قرارداد سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی ہے۔ قرارداد میں پرنٹ والیکٹرونک میڈیا کی تفصیلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہفتے کی شام کو اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا۔ہفتہ اور اتوار کی رات کو اسی علاقے میں عیسیٰ نگری کے قریب سابق ملک پلانٹ کے گرائونڈسے چادر میں لپٹی سوختہ لاش ملی، قرارداد میں بچی کی تلاش میں مجرمانہ غفلت پر پولیس کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں ملک بھر میں مروہ بیٹی جیسے واقعات متعدد بار رونما ہونے جن میں قصور، کراچی،فیصل آباد،گوجرانوالہ،ایبٹ آباد اور فرشتہ بیٹی کا واقعہ اسلام آباد میں اور بونیر میں 19سالہ صنم بیٹی،مردان میں ماہا بیٹی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ گزشتہ سالوں کے دوران ہزاروں کی تعداد میں قوم کی بیٹیاں جنسی تشدد کا شکار ہوئی ہیں اور بہیمانہ طریقے سے ان کی زندگیوں کا خاتمہ کیا گیا لیکن حکومتیں اور انصاف فراہم کرنے والے ادارے ناکام ہوئے ہیں بلکہ مجرموں کو شک کی بنیاد پر ریلیف دیا گیا۔ اس پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔اس قرارداد میں بچوں اور بچیوں کے خلاف مظالم روکنے کے لیے سینیٹ کے ذریعے وفاق سے6 مطالبات کیے گئے ہیں۔آئین ِ پاکستان کے آرٹیکل 35 کے تقاضے کے مطابق شادی، خاندان،ماں اور بچے کی حفاظت کے حوالے سے مملکت اپنی ذمے داری پوری کرے۔آئین کے آرٹیکل 37(g) کے مطابق حکومت عصمت فروشی، قمار بازی، ضرررساں ادویات کے استعمال، فحش لٹریچر اور اشتہارات کی طباعت، نشر و اشاعت اور نمائش کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔ان گھنائونے اوراندوہناک واقعات کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں کے ساتھ روابط کے ذریعے پورے ملک میں ایسے اداروں، افراد کا سراغ لگایا جائے جو فحاشی اور برائی پھیلارہے ہیںاور فحش مواد اور فحاشی و عریانی کو فروغ دے رہے ہیں۔ملک بھر میں پورنوگرافی اور فحاشی و عریانی پر مبنی مواد اور ایسے مواد کو فروخت کرنے، رواج دینے والے آؤٹ لیٹس (دکانوں، پوائنٹس) اور ایسے ہمہ اقسام کے مواد کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عاید کی جائے۔ بچوں، بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں رہا شدہ مجرموں کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں اور اصل مجرموں کا سراغ لگانے کے لیے کیسز کو ری اوپن کیا جائے۔پورے ملک میں بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے مجرموں اور اب مروہ بیٹی کے مجرموں کوگرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔بچوں اور بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی،ریپ اور قتل کے مجرموں کوقانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے بِلاتاخیر سرِ عام پھانسی دی جائے۔