آزاد فلسطینی ریاست تک اسرائیل تعلقات بحال نہیں ہوسکتے

420

ریاض: متحدہ عرب امارات کے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ٹیلفونک رابطہ ہوا ہے جس میں اسرائیل، فلسطین تنازع پر بات ہوئی ہے۔

سعودی نیوز ایجنسی کے مطابق سلمان بن عبدالعزیز نے صدر ٹرمپ پر واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات اس وقت تک معمول پر نہیں آئیں گے جب تک ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہ ہو جائے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں کا کہنا ہے کہ سعودی بادشاہ نے اتوار کو امریکی صدر سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ اور مستقل حل چاہتا ہے۔

سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان فون پر یہ رابطہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے کہ جب گذشتہ ماہ متحدہ عرب امارات اسرائیل کو تسلیم کر کے اس سے سفارتی روابط قائم کرنے والا تیسرا عرب ملک بن گیا تھا۔ اس سے قبل مصر اور اُردن بھی اسرائیل سے ریاستی تعلقات ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان پروازوں کیلیے سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے پر سعودی عرب کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے خطے میں مسئلہ فلسطین کے حل اور امن کے حصول کی کاوش قرار دیا ہے۔

سعودی عرب نے کہا کہ 2002 میں تجویز کیے گئے منصوبے کے تحت اسرائیل فلسطین کو ریاستی حیثیت دیتا ہے اور سنہ 1967 میں مشرق وسطیٰ کی جنگ میں قبضے میں لی گئی زمین سے مکمل انخلا کرتا ہے تو اس کے بدلے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آ سکتے ہیں۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس میں مشیر اور صدر ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے بعد آئندہ چند ماہ میں ایک اور عرب ملک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرے گا جبکہ یو اے ای کے علاوہ اب تک کسی عرب ملک نے ایسا نہیں کیا۔

یاد رہے کہ رواں ماہ سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے گا، چاہے یہ پروازیں اسرائیلی ایئر لائنز کی ہی کیوں نہ ہوں۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے پر فلسطین میں منفی ردعمل سامنے آیا تھا جبکہ پوری دنیا میں کئی مسلمان اکثریتی ممالک نے اس فیصلے پر اپنے خدشات ظاہر کیے تھے۔