بھارت: تعلیمی پالیسی سے مدرسے خارج، جماعت اسلامی اور دیگر اقلیتوں کی مذمت

326

نئی دہلی: بھارت کی نئی تعلیمی پالیسی میں مدارس اور دیگر اقلیتی تعلیمی اداروں کی نظر اندازی پر اقلیتی طبقہ کی بڑی تعداد تشویش کا شکار ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نئی قومی تعلیمی پالیسی سے اقلیتوں سے جڑے تعلیمی مسائل اور موضوعات کی بےدخلی نے اقلیتوں کی فکرمندی میں اضافہ کر دیا ہے بالخصوص مسلم طبقہ اس سے زیادہ متاثر ہوا ہے جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جوہر یونیورسٹی جیسے بڑے تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں جس کا نئی قومی تعلیمی پالیسی میں ذکر تک نہیں ہے۔

دوسری جانب مدرسوں کو لے کر بھی قومی تعلیمی پالیسی میں کوئی نشاندہی نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ عیسائی اور جین طبقہ بھی ان تمام امور پر فکر مند ہے۔

اس حوالے سے جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ’اقلیتی تعلیمی اداروں پر نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے اثرات‘ کے موضوع پر ویبینار منعقد کیا گیا جس میں آئین کے آرٹیکل 30 کے تحت اقلیتی تعلیمی اداروں کی حیثیت پر تشویش کا اظہارکیا گیا۔

اس موقع پر فادر سنی جیکب نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نئی پالیسی میں ہندوستان کی تعلیم میں عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کی حصہ داری کو نظر اندازکردیا گیا ہے اور ساتھ ہی آزادی کے بعد کے دور میں ہونے والی تعلیم میں شاندار ترقی کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر نرمل جین پرنسپل برائے ہیرا لال جین سینئر سیکنڈری اسکول نے کہا کہ 62 صفحات کی اس نئی تعلیمی پالیسی میں ہندوستان کو علمی سپر پاور بنانے کی بات کہی گئی ہے مگر ایک بار بھی مسلم مدرسوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ اقلیت کے ساتھ تفریق کی کھلی مثال ہے۔

ویبنار میں دہلی مائنارٹی کمیشن کے سابق چیئرمین کمال فاروقی، دہلی یونیورسٹی کے ریٹائرڈ ایکزام کنٹرولر ڈی ایس جگی اور سابق ڈی ایم سی ممبر ہرویندر کور نے شرکت کی۔