پاکستان کا کوئی بینک ایران سے لین دین پر تیار نہیں ، عبدالرزاق دائود

50

 

لاہور(مانیٹر نگ ڈیسک+صباح نیوز)وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤدنے کہا ہے کہ 2 سال میں جو ہو گیا وہ ہو گیا،اب آگے دیکھنا ہو گا اور رہنما اصول بناتے ہوئے درآمدات پر انحصار کم کرنا ہو گا‘پاکستان کا کوئی بینک ایران سے کاروبار کے لیے تیار نہیں‘ ایران میں پاکستانی چاول کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ہمیں ملک کو مینو
فیکچرنگ کی طرف لانا ہوگا اور ایکسپورٹ کو بنیاد بنانا ہوگا، نوکریاں پیداکرنا ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ41فیصد خام مال کی کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، درآمدی ڈیوٹی زیرو ہے، گزشتہ برسوں کے دوران برآمدات میں کمی ہوئی جس پر ڈیوٹیاں ختم کر دی گئیں، اگلے 3 سال کے لیے ریگولیٹری اور کسٹم ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے۔ عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ ایران میں پاکستانی چاول پسند کیا جاتا ہے لیکن پاکستان کا کوئی بینک ایران کے ساتھ کاروباری لین دین کے لیے تیار نہیں ہے، چاول برآمد کرنے والوں کے ساتھ بیٹھ کر اس کاحل نکالتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ افریقا میں برآمدات کو بڑھانے پر توجہ ہے، برآمدات بڑھ رہی ہیں جب کہ افغانستان سے ہماری تجارت کم ہو رہی ہے، جی ایس پلس کا درجہ دسمبر 2022ء تک پاکستان کو ملا ہے، جی ایس پلس سے مزید استفادے کے لیے تاجروں سے پلاننگ کر رہے ہیں۔