ڈھاکہ ،گیس کے اخراج سے دھماکہ 17 نمازی شہید

112
ڈھاکا: دھماکے میں جھلس جانے والوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے‘ مرنے والوں کے لواحقین غم سے نڈھال ہیں

ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلادیش کی ایک مسجد میں دھماکے سے بچے سمیت 17 افراد شہید ہو گئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق مسجد میں دھماکے کا یہ واقعہ دارالحکومت ڈھاکا کے نواح میں نارائن گنج نامی علاقے کی بیت الصلاۃ جامع مسجد میں جمعہ کی شب پیش آیا۔ دھماکے کے وقت درجنوں افراد عشا کی نماز کے لیے جمع تھے۔ حادثے کے نتیجے میں 17 افراد شہید ہوئے، جب کہ 50 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ڈھاکا کے سرکاری اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی اکثریت کے جسم 60 سے 70 فیصد تک جل چکے ہیں۔ مسجد کے امام اور ایک سینئر مذہبی رہنما بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اسپتال کے برن یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر سامنتا لعل سین نے بتایا کے 10افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران علاج دم توڑ گئے۔ مرنے والوں میں 7 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر لعل سین کے مطابق بچے کا 95 فیصد جسم جل چکا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ زیادہ تر زخمیوں کی حالت شدید تشویش ناک ہے۔ مسجد میں دھماکے کے فوری بعد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آگ بجھانے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے موقع پر پہنچ گئیں۔ پولیس کی فرانزک ٹیم بھی حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مسجد آئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکے کی وجہ گیس کا اخراج بتائی گئی ہے۔ فائر بریگیڈ کوشبہہ ہے کہ گیس کا اخراج ہوا، اور کھڑکیاں دروازے بند ہونے کے باعث مسجد میں گیس بھرگئی تھی۔ اس دوران ائر کنڈیشن چلایا گیا، جس کے باعث ممکنہ طور پر دھماکا ہو گیا۔ پولیس کی تحقیقاتی ٹیمیں جائے حادثہ سے شواہد جمع کر چکی ہیں اور حتمی وجوہات کا اعلان تفتیش کے بعد کیا جائے گا۔