میئر شپ ختم ہوتے ہی سانحہ 12 مئی کیسز میں وسیم اختر کی حاضری سے استثنیٰ بھی ختم

167

کراچی (اسٹاف رپورٹر) میئر شپ ختم ہوتے ہی سانحہ 12 مئی کیسز میں وسیم اختر کی حاضری سے استثنیٰ بھی ختم ہو گیا۔ہفتے کو سانحہ 12 مئی کے مقدمات سے متعلق انسداد دہشت گردی عدالت میں سماعت ہوئی، سابق میئر وسیم اختر کی عدم پیشی پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔

عدالت نے مقدمات میں وسیم اختر کو حاضری سے استثنیٰ ختم کر دیا ہے، سانحہ بارہ مئی کے کیسز میں آج ملزم رئیس عرف ماما، رضوان چپاتی اور عمیر صدیقی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے کہا وسیم اختر اب میئر نہیں رہے تو عدالت میں کیوں پیش نہیں ہوئے ہیں۔

عدالت نے تنبیہہ جاری کی کہ اگر وسیم اختر آئندہ سماعت پر پیش نہ ہوئے تو سخت کارروائی کریں گے۔دریں اثنا، عدالت نے وسیم اختر کا حاضری سے استثنیٰ کا حکم نامہ منسوخ کر دیا، یاد رہے کہ وسیم اختر کو 11 مئی 2019 کو میئر ہونے کے باعث استثنیٰ ملا تھا۔

واضح رہے کہ یکم اگست کو سماعت پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایم کیو ایم کے تین کارکنان پر سانحہ 12 مئی سمیت تین مقدمات میں فردِ جرم عائد کی تھی، جن میں رئیس مما، عمیر عرف جیلر، مرزا نصیب عرف رضوان چپاتی شامل تھے، تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا تھا۔

سانحہ 12 مئی کے 4 مقدمات میں سابق میئر کراچی سمیت دیگر پر فردِ جرم عائد ہو چکی ہے جب کہ وسیم اختر سمیت دیگر 21 ملزمان نے ضمانت حاصل کی ہوئی ہے، ملزمان کے خلاف ایئر پورٹ سمیت دیگر تھانوں میں مقدمات درج ہیں، یاد رہے کہ سانحہ 12 مئی کو 12 سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔