سندھ اور بلوچستان کو ملانے والا پل خستہ حالی کا شکار

212

کوئٹہ:سندھ اور بلوچستان کی بارشوں سے کئی سڑکیں اور پل تباہ ہوگئے،دریائے سندھ اور بلوچستان کو ملانے والا پل بھی خستہ حالی کا شکارہوگیا ہے، کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹرآغا شاہزیب درانی نے چیئرمین نیشنل ہائے اتھارٹی( این ایچ اے) ، سیکریٹری کمیونی کیشن اور سیکریٹری پلاننگ سے رابطہ کیا ہے،جس میں حب برج کی موجودہ صوتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

سینیٹر آغا شاہزیب نے کہا ہےکہ حب پل کی مضبوطی کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں،این ایچ اے حکام سیکریٹری پلاننگ پل کا ازسرنوسروے کروائے،برج کے ستونوں کے گرد حفاظتی دیوار تعمیر کی جائے،اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ پل کسی حادثہ کا باعث نہ بنے۔

ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی  کا کہنا تھا کہ پل کی مرمت صوبائی حکومت کی نہیں این ایچ اے کی ذمہ داری ہے،این ایچ اے کو ایک خط مارچ میں لکھا تھا ،یاد دہانی کے لیے گزشتہ ماہ بھی ایک اور خط لکھا ہے۔

شہریوں نے پل کی مخدوش حالت پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے پل کی مرمت پر فوری توجہ نہ دی گئی تو پل کسی بھی وقت ایک بڑے حادثے کاسبب بن سکتاہے، اس پل کو اگر کوئی حادثہ پیش آیا تو سندھ سے بلوچستان جانے کا راستہ منقطع ہوجائے گا، جس کے بعد بلوچستان جانے کا واحد فضائی راستہ ہوگا۔

تاہم نیشنل ہائی وے حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال سنگین نہیں ہے،ساخت اور اسٹریکچر کے لحاظ سے پل مستحکم ہے،ڈھانچے میں بھی تکنیکی طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہے، 2017اور2018میں پل کے ستونوں کے اردگر مرمت کا کام کروایا گیا تھا۔