سندھ پر پی پی اور کراچی پر ایم کیو ایم کا قبضہ ہے: سراج الحق

400

کراچی: شدید بارشوں کے بعد پاکستان کے شہر پنجاب بلوچستان اور سندھ کی صورتحال خراب ہے، محکمہ موسمیات نے حکومت کو پہلے سے آگاہ کیا تھا کہ احتیاطی تدابیر کی جائیں، بارشوں نے بستیوں اور سڑکوں کو تباہ کیا اور فصلیں تباہ کیں۔

دورہ کراچی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ حکومت نے اعلانات کے سوا کچھ نہیں کیا، اندرون سندھ میں 18 گھنٹے سے بجلی نہیں ہے، اندرون سندھ میں سرکاری عملے نے مقامی باشندوں سے 50 50 ہزار روپے لیے، وفاقی و صوبائی حکومتیں مصیبت کے وقت میں ایک دوسرے پر ہوائی فائرنگ کررہے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو بارش کے فوری بعد آنا چاہیے تھا، کرا چی کی سڑکوں پر گٹر ابل رہے ہیں، لائین کے پانی میں سیوریج کا پانی شامل ہے، صوبہ سندھ بھی پاکستان کا حصہ ہے، اسلام آباد سے زیادہ محبت وطن ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ پر 50 سالوں سے پیپلز پارٹی اور کراچی میں ایم کیو ایم کا 30 سالوں سے قبضہ ہے، صوبائی وبلدیاتی حکومت کا آپس میں کرپشن کرنے میں مقابلہ ہے، پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی دوسالوں میں کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا۔

سراج الحق نے کہا کہ صدر پاکستان کراچی سے تعلق رکھتے ہیں وہ بتائیں کہ شہر کراچی کے لیے کیا کیا، صوبائی حکومت نے 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار تو دے دیا لیکن ریلیف کا کوئی کام نہیں دیا، نئے اعلانات کی ضرورت نہیں جو پہلے اعلانات کیے گئے ان کا حساب دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں دو سالوں سے کوئی بھی ترقیاتی کام نہیں کیا تو 162 ارب روپے کا بجٹ کہاں خرچ کیا گیا، 100 ارب روپے کراچی کے لیے مختص کیے جائیں، اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی  بنائی جائے تاکہ شہر ترقی کرسکے۔

سراج الحق نے کہا کہ الیکشن عوام کا حق ہے، مردم شماری میں شدید تحفظات ہیں، جن بلاکس میں تحفظات تھے ان جگہوں پر بھی مردم شماری نہیں کروائی گئی۔

انہون نے کہا کہ کراچی پاکستان میں معاشی لحاظ سے ریڑھ کی ہڈی ہے، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے کراچی معاشی ریڑھ کی ہڈی کو توڑا ہے، جماعت اسلامی کراچی کے عوام کا مقدمہ ہو فورم پر لڑا ہے، وزیراعظم عمران خان کو وزیر اعلی ہاؤس سے نکل کر بستیوں اور آبادیوں میں آنا چاہیے۔

سراج الحق نے کہا کہ اگر حکمران عالی شان محلات نہیں نکلیں گے تو عوام ان حکمرانوں کو چھپنے کا موقع نہیں دیں گے، انسان نے چاند پر قدم رکھا ہے لیکن۔ یہاں کے عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے، اگر حکمرانوں نے اپنا فرض پورا نام کیا تو ان کے گریبان اور عوام کے ہاتھ ہوں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سرجانی ٹاؤن میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے زندگی مفلوج ہوگئ ہے، سرجانی ٹاؤن کے متاثرین کے مطالبات قبول کیے جائیں ورنہ وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس بھی جائیں گے، عوام صدقہ اور خیرات نہیں بلکہ اپنا حق مان رہے ہیں، وزیر اعظم کے اعلانات اعلانات کر کے بھول جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یوٹرن لینا لیڈر کا کام ہے۔