وزیراعظم کا کراچی کیلئے 11 سو ارب روپے پیکج کا اعلان

186

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیر اعظم عمران خان نے کراچی کے لیے گیارہ سو ارب روپے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور سندھ اس میں حصہ ڈالیں گے۔

کراچی ٹرانسفارمیشن پلان سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بارشوں سے پورے ملک میں نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے عمران خان نے کہا کہ کراچی میں بارشوں سے تباہی مچ گئی۔ بارشوں سے پہلے کورونا کا چیلنج تھا۔ کراچی میں عوام کو مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ کراچی کے مسائل کے مستقل حل کےلیے کوشاں ہیں۔ آج تاریخی دن ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے ہم نے کمیٹی بنائی۔ ٹڈی دل کے چیلنج سے نمٹنے کےلیے بھی کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ بارشوں سے بلوچستان اور دیگراضلاع متاثر ہوئیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے محسوس کیا کہ کراچی کا مسئلہ اہم ہے اس پر بات کرنا ضروری ہے۔ کسی بھی مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوآرڈی نیشن ضروری ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کےلیے ہمیں ہر وقت فوج کی مدد درکار ہوئی ہے۔ سیلاب سے تباہ کاریاں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی ہوئیں۔

عمران خان نے کہا کہ کراچی میں نالے ،نکاسی آب ،بےگھرافراد اور سولڈ ویسٹ کے مسائل ہیں۔ کراچی کی سڑکیں اور دیگر انفراسٹریکچر کا مسئلہ حل کرنا ضروری ہے۔کراچی کے لوگوں نے مشکل وقت کا سامنا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے انہیں اندرون سندھ سیلاب کی تباہ کاریوں سےمتعلق آگاہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے ملکر کورونا سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے۔ ہم کراچی کے مسائل کے حل کے لیے بھی ملکر کام کریں گے۔ کراچی والوں کے لیے پینے کا پانی بڑامسئلہ ہے۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ کےساتھ سڑکوں کابھی مسئلہ ہےانہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے انہیں کراچی کی انفراسٹریکچر سے متعلق بھی بریف کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کورونا کے پھیلاؤ کے بعد فوری طور کمیٹی بنا کر اقدامات کیے اور اسی طرح ٹڈی دل کے معاملے پر بھی فوری ایکشن لیا گیا اور اب بارشوں کی وجہ سے ملک بھر میں جہاں سیلابی صورتحال ہے اس سے اسی طرح نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بارشوں کے باعث کراچی میں پیدا ہونے والے مسائل کے سبب فیصلہ کیا گیا کہ دیگر تمام مسائل کو ایک ساتھ حل کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ میں کراچی کے دورے پر پہلے ہی آجاتا لیکن ہمیں کورونا وائرس کی طرز پر فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے ایک اسٹرکچر تشکیل دینا تھا جو وزیراعلیٰ سندھ کے ماتحت کام کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اب جو بھی فیصلے کیے جائیں گے اس کی نگرانی پرووِنشل کوآرڈینیشن اینڈ امپلمینٹیشن کمیٹی (پی سی آئی سی) کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کمیٹی میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں جبکہ پاک فوج کا اس میں بہت بڑا کردار ہے کیوں کہ سیلاب اور صفائی کے معاملات پر ہمیں فوج کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں جب بھی اس طرح کی قدرتی آفت سامنے آتی ہے تو اس میں فوج سب سے آگے ہوتی ہے کیوں وہ سب سے منظم ادارہ ہے اور اس کے پاس سب سے زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کراچی کے لیے جو پیکج لے کر آئے ہیں وہ تاریخی پیکج ہے جس میں وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتیں تعاون کررہی ہیں۔

پیکج کے تحت حل کیے جانے والے والے مسائل کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیراعظم نے کہ کہ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا مسئلہ ہے اور اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ کے فور منصوبے کا ایک حصہ صوبائی جبکہ دوسرا حصہ وفاقی حکومت لے گی اور اسے جلد از جلد مکمل کر کے آئندہ 3 برس میں کراچی کا پانی کا مسئلہ مستقل طور پر حل کردیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا مسئلہ نالوں کا ہے جہاں تجاوزات ہیں اور غریب لوگ رہائش پذیر ہیں، اس کے لیے این ڈی ایم اے نالے صاف کررہی ہے جبکہ وہاں بسے افراد کو متبادل جگہ فراہم کرنے کی ذمہ داری سندھ حکومت نے اٹھائی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کراچی میں سیوریج سسٹم کا بھی بہت بڑا مسئلہ ہے جس پر فیصلہ کیا گیا کہ 11 سو ارب روپے کے پیکج میں سیوریج سسٹم کے مسئلے کو بھی مکمل طور پر حل کیا جائے گا ساتھ ہی ایک ہی دفعہ سالڈ ویسٹ (کچرا) کے مسئلے کو بھی حل کر کے ایک نظام تشکیل دیا جائے گا۔

ٹرانسپورٹ کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کراچی کے سرکلر ریلوے کو اسی پیکج میں مکمل کیا جائے گا اور مختلف سڑکوں کے مسائل بھی حل کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک جانب کراچی کے عوام کو بڑے مشکل حالات سے گزرنا پڑا لیکن اس سے یہ ہوا کہ جو چیزیں نہیں ہوتی تھیں انہیں حل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کراچی میں مختلف اداروں کا دائرہ اختیار ہے، کہیں کنٹونمنٹس ہیں، کہیں وفاقی حکومت، ریلوے اور کہیں صوبائی حکومت، جس کی وجہ سے عملدرآمد میں مشکل پیش آتی تھی لیکن اب پی سی آئی سی میں تمام اسٹیک ہولڈرز ایک ساتھ اکٹھے ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی سی آئی سی سے فیصلے آسان ہوں گے اور رکاوٹیں دور ہوں گی اس سے اصل چیز یعنی عملدرآمد ہوگا کیوں کہ منصوبے بن جاتے ہیں لیکن عملدرآمد ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی سی آئی سی سے عملدرآمد ہوگا اور مانیٹرنگ کمیٹی سے سب دیکھ رہے ہوں گے جس میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور فوج شامل ہو گی۔

وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ کراچی کے عوام نے جو مشکل وقت گزارا ہے اس سے یہ بہتری سامنے آئے گی کہ جو زیر التوا مسائل تھے وہ حل کردیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب سے بہت لوگ متاثر ہوئے ہیں اور سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی مدد کے لیے بیٹھ کر بات چیت کی جائے گی اسی طرح بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی سیلاب آیا ہوا ہے، اللہ نے اس سال ہمیں مختلف امتحانوں میں ڈالا جس میں کورونا وائرس کا بہت بڑا امتحان تھا۔

وزیراعظم عمران خان آج ایک روزہ دورے پرکراچی پہنچ گئے جہاں گورنر سندھ اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے ان کا استقبال کیا۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز اور عامر محمود کیانی بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے ۔کراچی پہنچنے کے فوراً بعد وزیراعظم نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے شہر کا فضائی جائزہ لیا۔