مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن کے استعمال پر ہیومن رائٹس واچ آگ بگولہ

333

سرینگر: بھارتی مظالم پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہےکہ دنیا بھر میں مظاہرین کو منتشرکرنے کیلیے پیلٹ گن کا استعمال متروک ہو چکا ہے لیکن مودی حکومت کشمیریوں پر پیلٹ گن کا استعمال مزید بڑھا رہی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ قابض بھارتی فوج کشمیریوں پر پیلٹ شاٹ گن استعمال کررہی ہےجس سے کشمیری نوجوان مستقل نابینا پن کا شکار ہورہے ہیں۔

Image may contain: one or more people and outdoor

اقوام متحدہ کے فورس اینڈ فائر آرمز کے استعمال کے بنیادی اصولوں کی مودی حکومت مسلسل خلاف ورزی کررہی ہے، پیلٹ گن کےاستعمال سے بڑے پیمانےپر لوگ زخمی ہوتے ہیں، اس ہتھیار کے زخم ٹھیک ہونے میں خاصا وقت لگتا ہے اور دوسری طرف آنکھوں کی بینائی مستقل طور پرختم ہو جاتی ہے۔

گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں کے ایک احتجاجی مظاہرے میں پیلٹ گن کا استعمال کیا جس کے باعث 6 افراد شدید زخمی ہوئے اور کئی لوگ مستقل طور پر نابینا ہوگئے۔

In pictures: 'Pellet guns' maim Kashmir protesters - BBC News

مقبوضہ کشمیر کی سابقہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے مطابق جولائی 2016 سے فروری 2017 تک پیلٹ گن کی فائرنگ سے 2006 افراد کشمیری زخمی ہوچکے ہیں جس سے 782 افراد مستقل نابینا ہوگئے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیریوں پر پیلٹ گن کا استعمال روکے کیونکہ یہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔