لاپتا پولیس اہلکار کی تنخواہ روکنے پرسندھ ہائی کورٹ برہم

229

کراچی (نمائندہ جسارت)سندھ ہائی کورٹ نے سینٹرل جیل کراچی میں ڈیوٹی پر مامور کانسٹیبل محمد ضیا کی گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت کی‘ عدالت نے لاپتا پولیس اہلکار کی تنخواہ روکنے سے متعلق فوری تفصیلات طلب کرلیں۔ جسٹس نذر اکبر نے پولیس انتظامیہ پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار لاپتا ہے‘ اوپر سے اس کی تنخواہ بھی بند کردی ہے‘ کس کے حکم
پر لاپتا پولیس اہلکار کی تنخواہ بند کردی گئی‘ پولیس والو! اپنے بھائیوں پر تو رحم کرو۔ عدالت کا کہنا تھا کہ بتایا جائے لاپتا اہلکار کی تنخواہ کیوں بند کی گئی؟ پولیس اہلکار 2 ماہ سے لاپتا ہے اس کی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ بتایا جائے‘ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ہم کانسٹیبل محمد ضیا کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ کیا کوشش کی ہے؟ اوپر سے اس کی تنخواہ بھی بند کردی تاکہ اس کے گھر والے پریشان ہوں۔ درخواست گزار خاتون کا کہنا تھا کہ11 جولائی کو بیٹا سینٹرل جیل ڈیوٹی پر گیا تھا‘ اس کے بعد واپس نہیں آیا‘ اب تو ادارے نے تنخواہ بھی بند کردی ہے‘ اس کے4 بچے ہیں‘ گھر کرائے کا ہے‘ اب تو کرایہ بھی ادا نہیں کر پارہے۔