سبسڈی نہ ملنے سے زرعی شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا

214

سکھر (نمائندہ جسارت) وفاقی اور صوبائی حکومتیں کاشتکاروں کے لیے بار بار سبسڈی کے اعلانات کے باوجود تاحال قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت سے منسلک کاشتکاروں کو کسی قسم کی سہولت فراہم کرنے میں ناکام ہیں، انتہا تو یہ ہے کہ ٹڈی دل اور دیگر قدرتی آفات سے شدید متاثر ہونے والی کپاس کی بچی کچی فصل تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے اور اسی دوران کپاس کی تیار فصل پر سفید مکھی اور خطرناک سنڈی کا شدید حملہ ہوچکا ہے، جس کی ایک وجہ جعلی اور غیر معیاری زرعی ادویات اور محکمہ زراعت کی نااہلی ہے۔ سفید مکھی اور سنڈی کے شدید حملے کے باوجود اب تک صوبائی حکومت کی جانب سے کاشتکاروں کو اس حوالے سے کوئی بھی معیاری کیڑے مار ادویات فراہم نہیں کی گئیں، جس کی وجہ سے خدشہ پیدا ہوچکا ہے، صرف ضلع سکھر اور نواحی علاقوں میں تقریباً ایک لاکھ ایکڑ پر کاشت کی گئی کپاس کی فصل تیار ہوکر کاشتکار کے ہاتھ آنے سے پہلے ہی تباہ ہوچکی ہوگی، جس کی وجہ سے کاشتکار مزید مالی بحران سے دوچار ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ چند ماہ قبل گندم کی فصل کی تیاری کے دوران بھی ابتدائی دنوں میں ٹڈی دل کے خطرناک حملے نے گندم کی فصل کو شدید متاثر کیا تھا، جس کی وجہ سے گندم کی اوسط پیداوار فی من دس سے پندرہ من کم نکلی تھی، جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے گندم کی خریداری میں عدم دلچسپی کے باعث مجبور کاشتکاروں نے گندم فی من 13 سو روپے کے حساب سے مارکیٹ میں فروخت کی، جو کہ بڑے کاروباری افراد اور تاجروں کی ذخیرہ اندوزی اور صوبائی حکومت کی نااہلی کے باعث اب مارکیٹ میں 18 سو روپے سے 2 ہزار روپے تک فی من فروخت ہورہی ہے۔ اس طرح زراعت سے منسلک کاشتکاروں کو صوبائی اور وفاقی حکومتیں صرف اعلانات تک خوش رکھنے میں مصروف ہیں، جبکہ زرعی صورتحال کے حوالے سے حقائق بالکل مختلف ہیں اور زرعی شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔