پنگریو، سیوریج کے پانی کا شادی اسمال واہ اور دیگر نہروں میں اخراج

44

پنگریو (نمائندہ جسارت) پنگریو اور ملحقہ علاقوں میں ہونے والی بارشوں کے باعث شہروں کا برساتی اور سیوریج کا پانی شادی اسمال واہ اور دیگر نہروں میں اخراج کیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے پورے علاقے میں پینے کے صاف پانی کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے اور عوام نہروں میں اخراج کیا جانے والا انتہائی مضر صحت اور بدبودار پانی پینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ گندے اور تعفن زدہ پانی کے استعمال کے باعث علاقے میں بڑے پیمانے پر ڈائریا، گیسٹرو، الرجی اور دیگر امراض پھیل گئے ہیں، ان امراض سے متاثرہ افراد کی بڑی تعداد روزانہ علاقے کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں علاج کے لیے آرہی ہے۔ سرکاری اور نجی اسپتالوں کے ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں گیسٹرو، ڈائریا اور پیٹ کے دیگر امراض پھیل گئے ہیں، جس کی وجہ گندے پانی کا استعمال ہے۔ شادی اسمال واہ سے پینے کا پانی حاصل کرنے والے دیہات کے باشندوں نے اس ضمن میں کہا کہ عدالت عظمیٰ نے مضر صحت اور سیوریج کا پانی نہروں میں اخراج کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے، آلودہ پانی کے استعمال کے باعث عوام کی صحت پر بہت خراب اثرات پڑرہے ہیں۔ دریائے سندھ سے نہروں میں گزشتہ پندرہ روز سے صاف پانی کی فراہمی بند ہے، پنگریو اور دیگر شہروں کی انتظامیہ اور پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے شہروں کا برساتی اور سیوریج کا انتہائی گندا پانی مسلسل شادی اسمال واہ میں اخراج کیا جارہا ہے۔ علاقے کے دیہات اور قصبوں کے باشندے یہی پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے علاقے کے ہزاروں باشندوں اور مویشیوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ سیاسی، سماجی تنظیموں نے چیف جسٹس پاکستان اور وزیر اعلیٰ سندھ سے اپیل کی ہے کہ شادی اسمال واہ اور دیگر شاخوں میں گندے اور مضر صحت برساتی پانی کے اخراج کا نوٹس لیا جائے۔