بیروت ،ملبے میں انسانوں کے زندہ ہونے کی امید

146
بیروت: بندرگاہ پر ہول ناک دھماکے سے تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے میں دبے ہوئے انسانوں کو حساس مشینوں کے ذریعے تلاش کیا جا رہا ہے

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر زبردست دھماکے کے ایک ماہ بعد امدادی کارکنوں کو ایک تباہ شدہ مکان کے ملبے تلے انسانوں کے زندہ ہونے کا سراغ ملا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق مقامی حکام نے بتا یا ہے کہ ملبے تلے دبے کسی انسان کے زندہ ہونے کی ممکنہ علامتیں نظرآئی ہیں، تاہم اگر یہ امید درست ثابت ہوئی، تب بھی اس کا پتا لگانے میں گھنٹوں لگ سکتے ہیں۔ امدادی کاموں میں مصروف اہل کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں جمائز علاقے میں ایک تباہ شدہ مکان میں حساسآلات کی مدد سے کسی زندہ انسان کے دل کی ہلکی دھڑکن کا سراغ ملا ہے۔ اس کے بعد انسانی جسم سے نکلنے والی حرارت کھوجنے کے آلے سے ملبے تلے بظاہر 2 انسانی جسموں کی نشاندہی ہوئی جن میں سے ایک چھوٹا ہے، جو بازو اور ٹانگیں سمیٹے پڑا ہے۔ امدادی ٹیم نے اس کے بعد تلاشی کا کام شروع کیا، جس میں کھوجی کتوں کی مدد بھی لی جارہی ہے۔ اس دوران ایک دیوار گرنے کے خدشے کے پیش نظر رات کو تلاش کام روک دیا گیا۔ امدادی ٹیم میں شامل چلی کے ایک رضاکار فرانسیسکو لیرمونڈا کا کہنا ہے کہ انسانوں کے سانس لینے اور دل کی دھڑکنوں کا پتا لگانے والے ان کے آلات نے کسی انسان کے زندہ ہونے کے اشارے دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ بعد ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے، لیکن یہ ناممکن بھی نہیں ہے۔ بعض حالات میں کوئی متاثرہ شخص ایک مہینے تک ملبے میں دبے رہنے کے بعد بھی زندہ رہ جاتا ہے۔ اس تباہ شدہ علاقے میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے ہیں اور بڑی بے صبری کے ساتھ کسی امید افزا خبر سننے کے منتظر ہیں۔