یونان کی ہٹ دھرمی‘ ترکی کے ساتھ مذاکرات سے انکار

151
انقرہ: تُرک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو صحافیوں سے گفتگو کررہے ہیں

ایتھنز ؍ ؍ انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) یونان نے مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں اپنی ہٹ دھرمی کا اظہار کرتے ہوئے نیٹو کی جانب سے فریقین کے درمیان مذاکرات شروع کرنے کی بات مسترد کردی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق یونانی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ یونان اور ترکی نے مشرقی بحیرہ روم میں نیٹو کی ثالثی کے ذریعے کشیدگی کو دور کرنے کے لیے نام نہاد ‘تکنیکی بات چیت پر اتفاق کیا تھا، تاہم فی الحال کسی حتمی سمجھوتے تک نہیں پہنچا گیا۔ ایتھنز حکومت کے مذاکرات سے انکار کیے جانے سے چند گھنٹے قبل ہی نیٹو کے سربراہ ژینس اسٹولٹن برگ نے اعلان کیا تھا کہ خطے میں کسی حادثاتی فوجی ٹکراؤ سے بچنے کے لیے ترکی اور یونان نے تکنیکی سطح کی بات چیت پر اتفاق کر لیا ہے۔ ٹوئٹر پر جاری بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ کشیدگی کا حل تلاش کرنے کے لیے میں تمام متعلقہ اتحادیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہوں۔اس سے قبل جرمنی کی جانب سے بھی یونان اور ترکی کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے کوششوں کی ضرورت پر زو دیا گیا تھا۔ دریں اثنا ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا کہ انقرہ حکومت یونان کے ساتھ اختلافات کے سلسلے میں پائیدار اور منصفانہ حل تلاش کرنے کے لیے بلاشرط بات چیت کے لیے تیار ہے اور ساتھ ہی یونان حکومت کو بھی اسی انداز میں آگے بڑھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔