یونیورسٹی آف جھنگ کی انتظامیہ مخلوط تعلیم کیلیے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں

203

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہاہے کہ لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی لاہور کے جھنگ کیمپس کو یونیورسٹی آف جھنگ میں ضم کرنا قابل مذمت ہے ۔اس وقت کالج میں 1300سے زائد طالبات زیر تعلیم ہیں۔یونیورسٹی آف جھنگ کی انتظامیہ اور بااثر افراد لاہور یونیورسٹی کے سب کیمپس پر قبضہ کرکے مخلوط تعلیم کے لیے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ جھنگ ایک پسماندہ اور کم تعلیم یافتہ علاقہ ہے ۔خواتین کی تعلیم کا تناسب بی بہت کم ہے ۔لوگ مخلوط ذریعے تعلیم کو معیوب سمجھتے ہیں ۔خدشہ ہے کہ اس اقدام سے خواتین میں شرح خواندگی کا تناسب مزید کم ہو جائے گا ۔ ہماری حکومتیں غیر ملکی آقائوں اور قرضہ دینے والے اداروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ثقافتی تبدیلی کے نام پر مخلوط تعلیم اور مخلوط معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔وومن یونیورسٹی جھنگ کیمپس کا یونیورسٹی آف جھنگ سے الحاق اسی مہم کا حصہ ہے تا کہ طالبات کو مخلوط ماحول میںتعلیم حاصل کرنے پر مجبور کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کا یہ اقدام عوام کی آزادی کو سلب کرنے اور مذہبی اور اخلاقی روایات کوپامال کرنے کے مترادف ہے۔محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے نہایت پسماندہ علاقوں میں طالبات کی تعلیم کے لیے مختص تقریباً 80 کروڑ روپے لاگت سے تعمیر ہونے والے خواتین کیمپس کے لیے یونیورسٹی آف جھنگ للچائی ہوئی نظروںسے دیکھ رہی ہے ۔سالہاسال سے گرانٹس ملنے اور بارہ مر بع رقبہ الاٹ ہو نے کے باوجود اپنی عمارت تعمیر نہ کرنے کا جرم چھپانے کے لیے خواتین یونیورسٹی جھنگ کیمپس پر قبضہ کی نا پاک جسارت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ خواتین یونیورسٹی جھنگ کیمپس کی موجودہ حیثیت بر قرار رکھی جائے اور طالبات کو جدا گانہ ماحول میں تعلیم کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔