حجاب مسلم خواتین کا فخر و امتیاز ہے،ذکراللہ مجاہد

113

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی لاہور میاں ذکر اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ حجاب اُمت مسلمہ کا وہ شعار اورمسلم خواتین کا فخر و امتیاز ہے اور اسلامی معاشرے کو پاکیزگی عطا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔پردہ و حجاب عورت کو تقدس ہی نہیں تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔یہ شیاطین اور اس کے حواریوں کی غلیظ نگاہوں سے بچنے کے لیے ایک محفوظ قلعہ ہے۔حجاب اور برقعہ معاشرے سے بے حیائی کی جڑ کاٹ دیتے ہیں.جب عورت پردہ اتار پھینکتی ہے تو اس کی مثال اس سپاہی کی سی ہے جو اپنی زرہ اتار پھینکتا ہے اور دشمن کا تر نوالہ بن جاتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں حجاب حفاظت بھی، رحمت بھی کے اعنوان سے منعقدہ تقریب شرکت کے موقع پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔میاں ذکر اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں عالمی استعماری قوتوں نے اُمت مسلمہ پر تہذیبی یلغار کرتے ہوئے اسلامی شعائر کو ہدف بنایا ہوا ہے۔ جہاد، ناموس رسالتﷺ، خاندانی نظام اور حجاب مغرب اور اسلام دشمنوں کے خصوصی اہداف ہیں۔ ہر جگہ پر شعائر کو جو اسلامی تہذیب و ثقافت کی علامات ہیں ان کو انتہا پسندی، قدامت پرستی اور دہشت گردی سے جوڑا جارہا ہے جو استعماری قوتوں کی کھلی دہشتگردی ہے۔ سوئیڈن اور فرانس میں قرآن کی بے حرمتی اور گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے اعلانات اور ہالینڈ اور ڈنمارک میں حجاب پر پابندی مسلم امہ کے حکمرانوں کیلیے لمحہ فکر ہے۔انہوں نے کہا کہ آج امت مسلمہ کے حکمرانوں کو قرآن وسنت کے جھنڈے کے نیچے متحد ہونا ہوگا اور اسلام دشمن قوتوں کا ڈٹ کر اور اتحاد کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا۔پوری امت مسلمہ کے مسائل کا واحد حل قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ حجاب ڈے کو حکومتی سطح پر پاکستان کے سرکاری و نجی اداروں سمیت سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں منایا جانا چاہیے تاکہ اسلامی روایات پروان چڑھیں اور فحاشی عریانی کے کلچر کو ختم کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ اسلام دشمن قوتیں ملک میں نوجوان نسل کو خاص ایجنڈے کے تحت فحاشی عریانی کے کلچر میں دھکیل رہی ہیں۔ پاکستان کے حکمران حجاب کے کلچر کو معاشرتی اور سماجی رویہ قرار دیں۔