کراچی پانی پانی

356

کراچی کے عوام ابھی کورونا سے سنبھلنے بھی نہ پائے تھے کہ ریکارڈ توڈ بارش نے ان کے ہوش وحواس اڑا دیے۔ کل تک کراچی میں ’’کراچی کو پانی دو‘‘ کے نعرے لگانے والے بھی باران رحمت پر ہلکان ہوگئے۔ کورنگی، ڈیفنس، سرجانی، اورنگی، گلشن، لانڈھی گو کہ ہر جگہ ایک ہی حالت اور صورتحال تھی۔ عوام الامان الحفیظ کا ورد کر رہے تھے اور اوپر سے لیکر نیچے تک کراچی کے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، نہ شہر میں بجلی اور نہ آمد ورفت۔ پورا شہر ڈوبا ہوا، ملیر ندی میں طغیانی آئی تو کئی لوگوں کو بہا لے گئی، کراچی کے انڈرپاس موت کا کنواں بن گئے اور کئی افراد اس میں بھی ڈوب کر جان فانی سے کوچ کر گئے۔ وفاق، صوبہ اور شہری حکومت ایک دوسرے کو لعن طعن کرتے رہے لیکن عوام کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ کراچی کے شہریوں نے ایسی طوفانی بارش شاید اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔ شہری حکومت اور صوبائی حکومت کی ناقص پالیسی اور نااہلی کی وجہ سے باران رحمت ان کے لیے زحمت بن گئی۔ عوام اور غریب لوگوں کے نقصان کے ساتھ ساتھ کلفٹن ڈیفنس کے بنگلوں میں رہنے والے بھی اس بارش میں زیر آب آگئے اور ایک ہفتہ تک کئی کئی فٹ گندا غلیظ اور گٹر کا پانی ان کے گھروںکے اندر داخل رہا لوگ ڈیفنس اور کلفٹن چھوڑ کر اپنے عزیزوں کے گھروں میں منتقل ہوگئے۔ کیونکہ یہاں گندا، پینے کا صاف پانی ناپید اور گھروں میں گیس اور بجلی بھی بند ہوگئی تھی۔ کراچی کی اہم مارکیٹوں جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، جامع کلاتھ، ایم اے جناح، ٹاور، پیپر مارکیٹ، برنس روڈ، اردوبازار ودیگر اہم مارکیٹوں میں بارش کا پانی داخل ہوگیا اور تاجروں کا اربوں روپے کا نقصان ہوگیا۔ تاجر برادری اپنے اس نقصان پر سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے اور براہ راست اپنے اس نقصان کا ذمے دار سندھ حکومت اور بلدیہ کی نااہل حکومت کو ٹھیراتی ہے۔ وزیر اعلی سندھ نے اس ساری تباہی کا ذمے دار برساتی نالوں کے اوپر اور اس کے اطراف میں موجود تجاوزات کو ٹھیرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کچھ بھی ہوجائے برساتی نالوں اور اس کے اطراف میں تجاوزات کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کی جائیں گی اور جلد پورے شہر میں سخت آپریشن شروع ہوگا۔
کراچی جو عروس البلاد ہے گزشتہ تیس سال سے اس کے باسی ایک عذاب میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ اپنے بیگانے سب ہی اس شہر کو نوچ رہے ہیں۔ گزشتہ حکومتوں نے کراچی پر اربوں روپے لگانے کے دعوے کیے اور یہ دعوے کاغذوں اور ٹی وی پر تو نظر آئے لیکن عملی طور پر ان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ چور لٹیرے سب آزاد قانون صرف غریبوں ہی کے لیے، بغیر پرمنٹ ہزاروں بسیں، مزدا، ٹرک، کوچز آزادانہ موت کا رقص کرتی سڑکوں پر نظر آئیں گی لیکن کوئی ان کو لگام دینے اور نکیل ڈالنے والا پیدا ہی نہیں ہوا۔ سارا قانون غریب موٹر سائیکل سوار، رکشہ، ٹیکسی اور سوزوکی کے ڈرائیورںکے لیے ہے اور ٹریفک کے راشی افسران اور اہلکاروں نے غریب عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے لسانیت اور لسانی جماعتیں پروان چڑھ رہی ہیں اور لوگ لسانی جماعتوں کو شہر کی ضرورت قرار دے رہے ہیں کہ ان کی موجودگی میں ٹریفک اہلکاروں کو اس طرح دیدہ دلیری کے ساتھ عوام سے لوٹ مار کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔
کراچی کے ہرکونے پر ٹولیوں کی شکل میں ٹریفک اہلکار ٹریفک کی بحالی کے بجائے غریب لوگوں کا چالان کرتے نظرآتے ہیں۔ کوچز، بسوں میں اوور لوڈنگ اور چھتوں پر سوار مسافروں کی ان گاڑیوں کو کوئی روکنے اور ٹوکنے والا نہیں، صنعتی ایریا میں چلنے والے ہیوی ٹرالے جن پر لاکھوں ٹن وزن ہوتا ہے اور ان اوور لوڈنگ والے ہیوی ٹرالروں کے لیے بھی کوئی روک ٹوک نہیں اور کراچی سے لیکر خیبر تک یہ لوگ مٹھی گرم کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھتے ہیں اور متعدد مرتبہ خطرناک حادثات کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کا بھی نقصان ہوا لیکن کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
گزشتہ دنوں جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی اندرون سے کار میں آتے ہوئے ڈاکوں کے ہاتھوں اغوا ہونے سے بال بال بچ گئے۔ ان کے ڈرائیور نے کمال پھرتی کا مظاہرہ کیا اور کار انتہائی برق رفتاری کے ساتھ دوڑا دی، ڈاکو حواس باختہ ہوگئے اور گاڑی کے سامنے سے ہٹ گئے۔ کچے، داود، کشمور اور پنجاب سندھ کے سرحدی علاقوں میں ڈاکو راج آج بھی دھڑے سے قائم ہیں اور ان علاقوں میں ان کی اجارہ داری ہے۔ اسی طرح گزشتہ دنوں لیاری سے جماعت اسلامی کے منتخب رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید کے گھر پر دہشت گروں نے فائرنگ کی۔ فائرنگ سے پورے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔ خوش قسمتی سے رکن سندھ اسمبلی گھر میں موجود نہیں تھے۔ سید عبدالرشید جنہوں نے عوام کی بلاتفریق اور بے لوث خدمت کر کے لوگوں کے دلوںکو جیت لیا ہے۔ گزشتہ دنوں انہوں نے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں لیاری کا نوحہ بیان کیا تھا اور وہ لیاری کی حالت زار پر بہت گرجے اور برسے تھے۔ اسٹیبلیشمنٹ اور دیگر کرپٹ عناصر کو عبدالرشید کی عوامی خدمات ہضم نہیں ہورہی ہیں اور وہ قوتیں اب دہشت اور خوف کی فضا پیدا کر کے لیاری کو ایک بار بھی جنگجو علاقہ بنانا چاہتی ہیں۔ سید عبدالرشید کی دن رات کی محنت اور جدوجہد کے بعد لیاری ایک پرامن علاقہ بنا ہے۔ یہاں کے نوجوان اب منشیات، جرائم سے منہ موڑ کر تعمیری سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو یہ شکست برداشت نہیں ہو رہی ہے اور وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔ لیکن شاید انہیں علم نہیں کہ سید عبدالرشید ڈاکٹر نذیر احمد شہید کا ساتھی اور پیروکار ہے۔ جس نے بھٹو کی فسطانیت کا مقابلہ کیا۔ سینے پر گولی کھائی لیکن ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ آج بنگلا دیش میں اسی کے ساتھی پاکستان سے محبت اور وفاداری کے جرم میں پھانسیوں پر لٹکائے جا رہے ہیں۔ یہی نہیں سری نگر سے کراچی تک برہان وانی سے رفیق تنولی تک زمین میں بہنے والا پاک مقدس لہوان ہی بندوں کا ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا اپنے رب سے سودا کیا ہوا ہے۔ کوئی ظلم ستم جبر اب انہیں ان کے راستے سے نہیں ہٹا سکتا۔ یہ برسات، وبائی امراض، قدرتی آفات سب اللہ کا امتحان اور ایک آزمائش ہی تو ہے اور اللہ اپنے نیک بندوں کو ہمیشہ آزماتا ہے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں ہمیں اپنے رب سے اپنے اس تعلق کو اور زیادہ مضبوط بنانا ہے اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی ہے۔ بے شک وہ معاف کرنے والا عظیم الشان پروردگار ہے۔