عاصم باجوہ کا معاملہ… شبہات تو ہیں

882

وزیراعظم کے معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ نے اطلاعات کے شعبے کی ذمے داری سے سبکدوش ہونے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کسی نامعلوم ویب سائٹ پر اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی اور بتایا کہ 22 جون کو اثاثے ڈیکلیئر کیے۔ یکم جون کو اہلیہ نے بیرون ملک تمام سرمایہ کاری ختم کر دی تھی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بیٹے کے نام پر کمپنی موجود ہے۔ البتہ بھائی اور بیٹوں کے نام پر رجسٹرڈ کمپنی نے سی پیک سے کوئی ٹھیکہ نہیں لیا۔ عاصم سلیم باجوہ نے پیشکش کی ہے کہ جب بھی ضرورت پڑی کسی بھی فورم پر منی ٹریل یا دستاویز پیش کرنے کو تیار ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں اپنی تمام توجہ سی پیک پر مرکوز کرنا چاہتا ہوں۔ اچھی خواہش ہے ان کی۔ لیکن پاکستانی قوم پہلی مرتبہ یہ دیکھ رہی ہے کہ جھوٹے اور بے بنیاد الزامات پر کوئی ریٹائرد فوجی افسر کسی عہدے سے سبکدوش ہونے اور بعض جگہ کہا گیا ہے کہ استعفیٰ دینے پر تیار ہو۔ پاکستان میں تو یہ روایت ہے کہ سو فیصد سچے الزامات مع ثبوت پر بھی کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ جنرل پرویز کا زمانہ تو سب کو یاد ہے جس میں ایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ بلوچستان میں زیادتی ہوئی سب کو اس کیس کا علم تھا لیکن وہ افسر وہاں سے ٹرانسفر ہوا مزید ترقی دی گئی اور لیڈی ڈاکٹر کو انصاف نہیں ملا۔ اور خود جنرل پرویز مشرف؟؟ اس اعتبار سے جنرل عاصم سلیم باجوہ کی مثال بہتر ہے۔ البتہ ان کی پسپائی کئی سوالات چھوڑ گئی ہے۔ ایک یہ کہ اگر الزامات بے بنیاد اور جھوٹے تھے تو اس کی تردید کرکے خاموشی سے کام کرتے رہتے۔ جھوٹے کو عدالت میں طلب کرتے۔ کسی عہدے سے سبکدوش ہونا یا استعفیٰ دینا تو شبہات پیدا کرتا ہے۔ اور جو وضاحت کی گئی ہے اس سے بھی سوالات پیدا ہوئے ہیں کہ جو بھی ملازمت تھی اس کے عہدوں اور ذمے داریوں میں اربوں روپے کی جائداد بننا اللہ کے فضل کی بڑی اعلیٰ مثال ہے۔ بیٹوں کی کمپنی ایسے کام کرتی ہے جس کو کسی بھی وقت سی پیک کے ٹھیکے مل سکتے ہیں۔ انہوں نے تو یہی کہا ہے کہ کوئی ٹھیکا نہیں دیا گیا۔ جی بالکل ایسا ہی ہوا ہوگا۔ لیکن بعض باتیں خود باجوہ صاحب نے جو بتائی ہیں وہ ہیں تو عجیب کیا وجہ ہے کہ اہلیہ نے یکم جون کو بیرون ملک سرمایہ کاری ختم کر دی تھی اور 22 جون کو اثاثے ڈیکلیئر کر دیے گئے۔ گویا ساری تیاری کی گئی تھی۔ یہ سب کیوں کیا گیا اس کے بارے میں جب کوئی فورم پوچھے گا تو باجوہ صاحب ضرور بتا دیں گے۔ جیسا کہ وزیراعظم نے عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ مسترد کر دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ آپ کام جاری رکھیں۔ وزیراعظم دو روز قبل کہہ چکے ہیں کہ مجھے مسلح افواج کی مکمل حمایت حاصل ہے جب حمایت حاصل ہے تو ان کا فیصلہ اس حمایت کے تناظر میں درست ہی ہے۔ وزیراعظم کے حکم پر مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ اگر عمران خان باجوہ کا استعفیٰ منظور کرتے تو خود بھی استعفا دینا پڑتا۔ وہ اس سے قبل کہہ چکی ہیں کہ وزیراعظم سفاک احتساب کا آغاز عاصم باجوہ سے کریں۔ جو بھی بات درست ہو باجوہ صاحب بہرحال گرم پانیوں میں ہیں۔ سی پیک کے منصوبے کی ذمے داری نہایت حساس معاملہ ہے۔ اس میں چین اور پاکستان کے مفادات ہیں۔ بھارت کو نقصان ہے اور امریکا کو تکلیف ہے وہ تاک میں ہے کہ کس طرح چین کو معاشی گرداب میں الجھا دے۔ ایسے میں سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کے منصب پو براجمان شخص کے معاملات شفاف ہونے چاہییں۔ یہاں بھی وہی اصول اپنایا جانا چاہیے کہ چونکہ شخصیت متنازع ہو گئی ہے اس لیے انہیں استعفا دے دینا چاہیے۔ وزیراعظم بننے سے پہلے تو عمران خان یہی مطالبہ کیا کرتے تھے۔ اس تناظر میں وزیراعظم کی وہ گفتگو بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے جو انہوں نے الجزیرہ کو انٹرویو کے دوران کی ہے۔ اور فوج کے ساتھ تعلقات کا ذکر کیا ہے۔ اس طرح میڈیا پر بھی ان کی تنقید بڑی معنی خیز ہے۔ کہتے ہیں کہ میرے خلاف جعلی خبریں چلائی جاتی ہیں کیا اس پر عدالت جانا۔ آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ وزیراعظم صاحب ایسا نہیں ہے۔ آزادیٔ صحافت پر حملے کو صحافی اور اہل صحافت خوب جانتے ہیں ابھی تو آپ اپنا مسئلہ حل کریں۔