یارکشائر کائونٹی میں نسلی تعصب کا الزام

290

لندن (آئی این پی) انگلینڈ انڈر 19اور یارکشائر کے کپتان عظیم رفیق نے دعویٰ کیا ہے کہ انگلینڈ میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے دوران انہیں نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے وہ خودکشی کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ عظیم کے خاندان کا تعلق کراچی سے ہے وہ ڈس ایبل کرکٹ کے روح رواں سلیم کریم کے بھانجے ہیں۔عظیم کے مطابق انہیں انگلینڈ میں کھیل کے دوران ہمیشہ ‘غیر’ سمجھا گیا مینجمنٹ کی جانب سے نسل پرستانہ رویہ کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے ان کا انسانیت سے اعتبار اٹھ چکا تھا۔کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق عظیم رفیق کا کہنا ہے کہ مجھے کلب میں نسل پرستی اور بدترین ماحول کا سامنا کرنا پڑا، دوسروں کو تکلیف سے بچانے کے لیے اس حساس معاملے پر بولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عظیم کے مطابق میں جانتا ہوں کہ یارکشائر کلب میں رہتے ہوئے میں خودکشی کے کتنا قریب پہنچ چکا تھا، اندر سے مر رہا تھا لیکن کام پر جانا میرے لیے خوفناک لمحہ تھا۔میری کوئی بات سننے کوآمادہ نہیں ہوتا تھا۔عظیم کا کہنا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ وہ اس بارے میں گفتگو کرکے شاید اس کھیل میں اپنے امکانات کو نقصان پہنچا رہا ہوں لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ کرنا درست عمل ہے اور مجھے یہ تنہا بھی کرنا پڑا تو میں کروں گا۔ عظیم رفیق نے بتایاکہ انہیں ساتھی کھلاڑیوں خاص طور پر ایک کپتان کی جانب سے ہدف بنایا گیا، نومولود بیٹے کی موت پر کلب انتظامیہ نے سردمہری دکھائی، مشکل وقت میں ہمدردانہ سلوک کا دعوی کرنے کے باوجود کنٹریکٹ ہی ختم کر دیا گیا۔دوسری جانب یارکشائر کائونٹی نسلی تعصب کا شکار عظیم رفیق کے الزامات تحقیقات کرے گی۔یارکشائر کائونٹی کے چیئرمین روجر ہٹن کا کہنا ہے کہ عظیم رفیق کی جانب سے سنگین الزامات بورڈ سے لے کر کھلاڑیوں تک سب کے لیے تشویش کا باعث ہیں، ہم اس معاملے کو بہت سنجیدہ لے رہے ہیں، نہ صرف کہ اس سارے معاملے کی تحقیقات بلکہ کائونٹی کی پالیسیز اور کلچر پر بھی نظر ثانی کریں گے۔