قدرتی جھیل ختم کرنے سے گھر ڈوبے، انجینئرعباس رضا

151

کراچی (اسٹاف رپورٹر)نیا ناظم آباد میں قدرتی جھیل ختم کرنے کی وجہ سے لوگوں کے گھر ڈوبے ہیں۔تقریباً 30 اسکوائر کلو میٹر کے علاقے کا برساتی پانی یہاں آکر ڈرین ہوتا تھا،وہ سارے راستے بند کرکے دیواریں کھڑی کردیں اور یہاں کالونی بنادی گئی ہے۔نیا ناظم آباد کے رہائشی انجینئر عباس رضا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں حالیہ مون سون کی شدید بارشوں کے دوران نیا ناظم آباد کا رہائشی علاقہ کسی جھیل کا منظر پیش کررہا تھا، جہاں سڑکیں دریا بنی ہوئی تھیں اور گھروں میں کئی کئی فٹ پانی داخل ہونے سے شہریوں کی گھریلو اور قیمتی اشیاء بھی تباہ ہوگئی تھیں جبکہ سڑکوں پر کھڑی گاڑیاں بہہ کر دور چلی گئی تھیں،یہ سب کچھ نیا ناظم آباد میں قدرتی جھیل ختم کرنے کی وجہ سے ہوا ہے ،انہوں نے کہا ہے کہ جب بھی کراچی میں 100 ملی میٹر تک بارش ہوگی یہاں ہر گھر میں 2 سے ڈھائی فٹ تک پانی کھڑا ہونا یقینی ہے۔ عباس رضا کا کہنا ہے کہ انجینئرز نے درمیان میں جھیل اور کنارے پر گھر بنانے کا مشورہ دیا تھا، تاہم انتظامیہ نے جھیل والی جگہ پر بھی پلاٹس بنا دیے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیا ناظم آباد اردگرد کی آبادیوں کی جانب سے دیوار توڑنے کے باعث نیا ناظم آباد ڈوبا ہے، ہم نے کسی غیر ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کیا ہے، پانی ڈرینج سسٹم سے ہی نکلے گا۔ جھیل کے خاتمے اور نیا ناظم آباد کے ڈوبنے سے متعلق سوال پر ڈائریکٹر جاویداں کارپوریشن کا کہنا تھا کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے، جس نے بھی ایسا کہا وہ اس منصوبے سے ناواقف ہے، پورے دعوے سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کے دستیاب بہترین وسائل کی نگرانی میں یہ منصوبہ بنایا گیا ہے۔