حضرت داؤد کے دور میں تعمیر ہوئے ہیکل کی باقیات دریافت

778

ماہرین آثار قدیمہ نے  حضرت داؤد علیہ السلام کے دور میں تعمیر کیے گئے پہلے ہیکل کی باقیات دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسرائیلی ماہرین آثار قدیمہ نے کھدائی کے دوران ملنے والے تاریخی عمارت کے ٹکڑے اور سکے منظر عام پر لاتے ہوئے عوامی نمائش کیلیے پیش کردیے ہیں۔

Image from an archaeological dig at Armon HaNatziv that yields remnants of an ancient mansion (Yoli Schwarts, Israel Antiquities Authority)

اس حوالے سے ماہرین نے کہا ہے کہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ  پہلے ہیکل کی عمارت کے تین درمیانے سائز کےخاص پتھر، شاہانہ انداز میں بنائے گئے کھڑکی کے چوکھٹ اور چاندی کے سکے برآمد ہوئے ہیں۔

A five-shekel coin juxtaposed with a column head found at Armon HaNatziv (Yaniv Berman, Israel Antiquities Authority)

آئی اے اے کے ماہر آثار قدیمہ یاکوف بلیگ کی سربراہی میں ٹیم نےگزشتہ سال نومبر میں کھودائی کے دوران شاہی یہوداہ کے انداز میں خوبصورتی سے نقش دار حکومتوں کے ساتھ محل کے دفن شدہ ٹکڑوں کا انکشاف کیا۔ یاکوف بلیگ کے انکشافات کے دوران اسرائیلی وزیر ثقافت ہلی ٹراپر نے بھی شرکت کی۔

The unveiling of a column head found at a dig at Armon HaNatziv, Jerusalem (Yoli Schwartz, Israel Antiquities Authority)

پہلے ہیکل کے دور سے یہ دریافتیں یروشلم کے پرانے شہر کے جنوب میں واقع ایک اسٹریٹجک پہاڑی ارمون ہناتزیو کے پڑوس میں کی گئیں۔ آئی اے اے کے ماہر آثار قدیمہ یاکوف بلیگ کی سربراہی میں ایک ٹیم نے نومبر میں ایک زائرین کے مراکز کی تعمیر سے قبل کھودنے کے دوران شاہی یہوداہ کے انداز میں خوبصورتی سے نقش دار دارالحکومتوں کے ساتھ محل کے دفن شدہ ٹکڑوں کا انکشاف کیا۔

The unveiling of the column heads on September 3, 2020 (Yoli Schwartz, Israel Antiquities Authority)

اس سے قبل نیشنل جیوگرافک مسجد اقصیٰ کے نیجے کھدائی تصاویر جاری کرچکا ہے جو یہ ہیں

آئی اے اے کے یروشلم ڈسٹرکٹ کے ہیڈ آثار قدیمہ کے ماہر یوول باروچ نے کہا کہ یہ محل 586 قبل مسیح میں بیت المقدس کی فتح کے دوران تباہ ہو گیا تھا، باقیات تباہی کے علاقے آثار پائے گئے ہیں۔

نیشنل جیوگرافک کی تصویر میں دیکھا جاکتسا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے نیجے کھدائی کے دوران منعقد ہوا کانسرٹ

یاکوف بلیگ نے مزید کہا کہ  ہیکل کی تباہی کے دوران کچھ ٹکڑے گرے انہیں جان بوجھ کر زمین میں دفن کردیا گیا تھا، اس دور میں جن چیزوں کو دوبارہ استعمال کیا جاسکتا تھا وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے۔