کل بھوشن کیس:بھارت کو وکیل کرنے کیلیے 6 اکتوبر تک مہلت

112

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں جسٹس عامرفاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل لارجر بینچ نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے بھارتی جاسوس کل بھوشن کے لیے وکیل مقرر کرنے کی حکومتی درخواست پربھارت کو وکیل کرنے کے لیے ایک اور موقع دینے کی ہدایت کردی۔گزشتہ روز سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر اور ڈپٹی اٹارنی جنرل سید محمد طیب شاہ کے علاوہ عدالتی معاون سینئر وکیل حامد خان عدالت پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ ہمارے گزشتہ آرڈر پر عمل درآمد ہو گیا ہے؟ جس پراٹارنی جنرل نے کہاکہ6 اگست 2020ء کو کل بھوشن کو اس سے متعلق آگاہ کیا گیا،حکومت کو بھارتی وزارت خارجہ کی
طرف سے جواب موصول نہیں ہوا،کل بھوشن نظرثانی درخواست کے لیے وکیل مقرر کرنے کی سہولت سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا، پاکستان عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے،بھارت نظرثانی کے معاملے پر رکاوٹ بن رہا ہے،عدالت کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے کل بھوشن کے لیے وکیل مقرر کرنے کا حکم دے،دوسرے آپشن کے طور پر بھارت کے جواب کا مزید انتظار کیا جا سکتا ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ اگر بھارت یا کل بھوشن اس سہولت سے فائدہ ہی نہیں اٹھانا چاہتے تو پھر نظرثانی پٹیشن کا اسٹیٹس کیا ہو گا؟نظرثانی کا معاملہ موثر ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا یہ مناسب نہ ہو گا کہ فیئر ٹرائل کے اصولوں کے تحت بھارت کو دوبارہ پیشکش کی جائے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ بھارت کل بھوشن کیس کی پیروی سے انکار بھی نہیں کر رہا ، ایک جونیئروکیل کو ڈاکومنٹس وصول کرنے کا کہا گیا ، وکیل شاہ نواز نون کے پاس حصول کاغذات کے لیے بھارت کا کوئی اجازت نامہ نہیں تھا، کل بھوشن نے آرڈیننس کے تحت عدالت میں درخواست دائر کرنے سے انکار کردیا ہے،بھارت بھی کل بھوشن کو قانونی معاونت کے لیے دی گئی سہولت سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا،بھارت نے آرڈیننس کے تحت کل بھوشن کو وکیل مقرر کرنے پیشکش کا جواب نہیں دیا، پاکستان کل بھوشن کیس میں عالمی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کررہا ہے،عالمی عدالت کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے بھارت کو قونصلر رسائی دی،بھارت عالمی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد سے بھاگ رہا ہے،پہلے بھارت فوری جواب دیتا تھالیکن اب ایک ماہ بعد بھی بھارت نے تیسری آفر کا جواب نہیں دیا، بھارت پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش میں ہے، میری نظر میں 2 ممکنہ صورتیں ہو سکتی ہیں،ایک تو یہ ہے کہ عدالت کل بھوشن کے لیے وکیل مقرر کرے ، دوسری صورت یہ ہے کہ بھارتی جواب کا انتظار کیا جائے، متفق ہوں کہ عالمی عدالت کے فیصلے پر عمل کے لیے بھارت کو ایک اور موقع دیا جائے۔عدالت نے بھارت کو وکیل کرنے کے لیے پھر موقع دینے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت6 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی۔دریں اثناء اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ دفتر خارجہ کے ذریعے بھارت اور کل بھوشن کو عدالتی حکم سے آگاہ کیا،ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھارت نے جواب نہیں دیا ، بھارت کے پاس آپشن یہی ہے کہ وہ یہاں آکر کیس کی پیروی کرے،اب عالمی عدالت انصاف میں جانے کا کوئی جواز نہیں بنتا،ہم نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کر دیا ہے، بیرسٹر شاہ نواز نون کو بھارت نے مقرر کیا لیکن ان کے پاس وکالت نامہ نہیں تھا،اٹارنی جنرل آفس نے ان کو بلایا لیکن بیرسٹر شاہ نواز نون کے پاس نہ وکالت نامہ نہ ہی اتھارٹی لیٹر تھا۔