جیکب آباد ،حکومتی لاپر واہی ،بلدیاتی حلقہ بندیوں کا کام تعطل کا شکار

163

جیکب آباد (نمائندہ جسارت) سندھ حکومت کی لاپروائی سے بلدیاتی حلقہ بندیوں کا کام تعطل کا شکار ہونے کا امکان، سندھ حکومت نے تاحال لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء میں ترمیم نہیں کی، یوسی مولاداد کو ٹائون کمیٹی کا درجہ دینے کی کوششیں، جیکب آباد میں 20 ہزار نئے ووٹوں کا اندراج، نادرا کی جانب سے نئے جاری کردہ شناختی کارڈ کی فہرست کے تحت ووٹ داخل کرکے بلاک کوڈ الاٹ کیے گئے ہیں، الیکشن کمیشن ذرائع۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 31 اگست کو سندھ میں نئی حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے، جس پر یکم ستمبر کو ضلع جیکب آباد میں نئی حلقہ بندی کے لیے ضلعی الیکشن کمشنر کو کنوینر، اے ڈی سی ون اور ضلعی تعلیمی افسر پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے لیکن سندھ حکومت کی جانب سے تاحال لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء میں حلقہ بندی کے حوالے سے ترمیم نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی یونین کونسل اور وارڈ کی تشکیل کا طریقہ کا واضح کیا گیا ہے، جس کے باعث نئی بلدیاتی حلقہ بندی اور بلدیاتی الیکشن کے تعطل کا شکار ہونے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر الیکشن کمیشن ذرائع نے بتایا کہ وارڈز اور یونین کونسل کتنی آبادی پر تشکیل دی جائے، طریقہ کار واضح نہیں ہوا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کے سیکشن 25 کے تحت نادرا کی جانب سے نئے جاری کیے گئے شناختی کارڈ کی موصول فہرست کے تحت ضلع جیکب آباد میں بلاک کوڈ لگا کر 20 ہزار 9 نئے ووٹ داخل کیے گئے ہیں۔ دیھ عاقل پور، محراب پور، گڑھی محراب اور میہر شاہ پر مشتمل یوسی میہر شاہ کو ٹائون کمیٹی نوٹیفائی کیا گیا ہے جبکہ دیھ مولا داد، بھلیڈنو آباد، ڈیتھا، تھرڑی بھلیڈنو آباد پر مشتمل مولا داد ٹائون کمیٹی بنانے کی تیاری کی جارہی ہے، چاروں دیہوں کی آبادی 12469 تک بتائی جاتی ہے۔