صوبائی حکومت کی کرپشن نے سندھ کو ڈبو دیا، حلیم عادل شیخ

149

جھڈو (نمائندہ جسارت) سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین دراصل کرپشن متاثرین ہیں کیونکہ سندھ حکومت اگر ندی نالوں اور سیم نالوں کی صفائی اور اسے اپ گریڈ کرنے کے منصوبوں کے لیے مختص فنڈ ہڑپ نہ کرتی تو آج جھڈو اور اس کا دیہی علاقہ نہ ڈوبتا، سندھ حکومت کی کرپشن نے پورے علاقے کو ڈبو دیا ہے، ہزاروں متاثرین آسمان تلے بے یارو مددگار بیٹھے ہیں، صوبائی حکومت ان کی مناسب دیکھ بھال کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جھڈو کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے اور سیم نالوں اور نکاسی آب کے ندی نالوں کا دورہ کرنے کے بعد جھڈو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ریجن ایسٹ کے صدر اکبر علی پلی، ضلع میرپور خاص کے صدر آفتاب قریشی، پی ٹی آئی کے سینئر رہنماء بابو شوکت علی قائم خانی، پی ٹی آئی ضلع میرپور خاص کے ضلعی جنرل سیکرٹری رشید قائم خانی تعلقہ جھڈو کے صدر علی گلزار قائم خانی، بابر زمان پٹھان، حاجی نثار آرائیں بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوج متاثرہ افراد کو بروقت ریسکیو نہ کرتی تو بڑا نقصان ہوسکتا تھا۔ این ڈی ایم اے کی کارکردگی بھی قابل تعریف ہے، گورنر سندھ نے متاثرین سیلاب کے لیے ایک لاکھ راشن بیگ اور متاثرہ گھروں کے تعمیر کے لیے دس ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک اخوت فائونڈیشن کے ساتھ مل کر بلا سود قرض دینے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ زیادہ بارشوں کے بعد نالوں میں طغیانی اور شگاف پڑنے سے علاقے میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا مستقل حل نکالنا ہوگا۔ میں اس مسئلے کو سندھ اسمبلی میں اٹھائوں گا اور وزیر اعظم کے سامنے بھی رکھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کا سب سے زیادہ غلط استعمال ہوا ہے اور اس ترمیم کا فائدہ وزیروں، مشیروں اور سندھ کی کرپٹ مافیا نے اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کو امدادی سرگرمیوں کی بحالی میں سندھ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ خیمے راشن اور دیگر سامان وڈیروں اور من پسند افراد میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے پران ندی اور سیم نالوں کا معائنہ کیا اور آبپاشی حکام سے بریفنگ لی۔