بدین ،رہائشی علاقوں اور قبرستان سے پانی کی عدم نکاسی پر شہری سراپا احتجاج

86

بدین (نمائندہ جسارت) بدین آبادیوں اور قبرستانوں میں بارش کے پانی کی نکاسی نہ ہوسکی شہریوں کے احتجاجی مظاہرے اور میونسپل کمیٹی کا گھیرائو، رکن صوبائی اسمبلی حسنین مرزا کا متاثرہ علاقوں کا دورہ، بدین میونسپل کمیٹی کہ ذمے دران کی نااہلی، غفلت اور نکاسی آب کے نام پر بڑے پیمانے پر کرپشن کے باعث ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود زیر آب نشیبی علاقوں اور شہر کے قبرستانوں سے بارش کے پانی کی نکاسی نہیں ہوسکی۔ شہر کی نشیبی آبادیوں، گھروں اور گلیوں میں پانی کی نکاسی نہ ہونے کے باعث شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ آلودگی کے باعث زیرآب علاقوں کی فضاء بدبودار ہوچکی ہے، مچھر اور مکھیوں کی بہتات نے شہریوں کی زندگی عذاب بنا کر رکھ دی ہے۔ مدرسوں اور مساجد کے باہر پانی ہونے کے باعث نمازیوں کو مشکلات کے علاوہ مدرسوں میں تدریسی عمل متاثر ہوکر رہ گیا ہے۔ زیرآب آبادیوں کے مکین اپنے انتقال کر جانے والے پیاروں کی میت بھی گندے پانی میں ڈوبی ہوئی گلیوں میں سے لے کر گزرنے پر مجبور ہیں جبکہ قبرستانوں میں پانی ہونے کے باعث میت کو تدفین اور سپرد خاک کرنے کے لیے خشک مٹی اور زمین دستیاب نہیں۔ شہری اپنے پیاروں کو دور دراز بلند دیہی علاقوں میں دفنانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ بارشوں کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزراء اسماعیل راہو، انور سیال، عبدالباری پتافی، سیف اللہ دھاریجو، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پیر نوراللہ قریشی کے علاوہ پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی حاجی تاج محمد ملاح، تنزیلہ قنبرانی کا بدین کا دورہ اور ڈپٹی کمشنر بدین ڈاکٹر حفیظ سیال کے مسلسل اجلاسوں کے موقع پر میونسپل کمیٹی کے افسران کو پانی کی فوری نکاسی کی ہدایات کے باوجود بارش کے پانی کی نکاسی نہیں ہوسکی۔ دو روز قبل گورنر سندھ عمران اسماعیل اور گورنر پنجاب چودھری سرور کی بدین آمد، گزشتہ روز رکن صوبائی اسمبلی بیرسٹر حسنین مرزا کے دورہ بدین کے موقع پر بھی شہریوں نے بارش کے پانی کی عدم نکاسی کیخلاف شکایات کرتے ہوئے کہا کہ بارش نے ہم کو نہیں ڈبویا، بلدیاتی اداروں کے افسران کی نااہلی، غفلت اور نکاسی آب کے نام پر موٹر پمپ کی خریداری، تیل کا استعمال اور دیگر اخراجات کے نام پر جعلی اور بوکس بل اور وائوچرز کے ذریعے بڑے پیمانے پر خورد برد اور بے قاعدگیوں سے فنڈ ہڑپ کرنے کے باعث بارش کے پانی کی نکاسی نہیں ہوسکی۔ افسران کی کرپشن عوام کے لیے عذاب بن گئی ہے۔ بارش کے پانی کی نکاسی نہ ہونے کیخلاف شہریوں کی جانب سے روزانہ پریس کلب کے سامنے اور شہر کے مختلف علاقوں میں کیے جانے والے مظاہروں اور احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے سیکڑوں کارکنوں نے بدین میونسپل کمیٹی کے سامنے دھرنا دے کر روڈ بلاک کردیا اور میونسپل کمیٹی کا گیٹ بند کر کے احتجاج کیا جبکہ واٹر سپلائی کی قریبی آبادی سنگانی محلہ اور اللہ والا چوک کے قریبی علاقے میگھواڑ محلے کے مکینوں نے مسلسل تیسرے روز بھی پانی کی عدم نکاسی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دے کر روڈ بلاک کردیا۔ رکن صوبائی اسمبلی حسنین مرزا نے سابق کونسلرز، تاجر رہنمائوں اور شہریوں کے ہمراہ بارش سے متاثرہ علاقوں گوٹھ ہاشم خاصخیلی، گوپانگ محلہ، اتفاق کالونی، غریب آباد، کینٹ روڈ اور مولوی حاجی احمد ملاح قبرستان کا دورہ کر کے زیرآب علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لیا۔