زرداری کا نوازشریف کو فون،حکومت کے خاتمے کی تحریک چلانے پر اتفاق ،آل پارٹیز 20 ستمبر کو طلب

127

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں)سابق صدر آصف زرداری اور مسلم لیگ(ن) کے قائد نوازشریف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ،اکیلے سیاسی پرواز ممکن نہیں ملکر وفاقی حکومت کے خاتمے کی تحریک چلانے کے بارے میں اتفاق کیا گیا،نوازشریف پر وطن واپسی کے لیے حکومت اور عدلیہ کے دباؤ کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئیجبکہ رہبر کمیٹی نے اجلاس کے بعد اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس 20ستمبر کو اسلام آباد منعقد کرانے کا اعلان کردیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق منگل کے روز لیگی وفد کے بلاول ہاؤس دورے اور پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کے دوران شہبازشریفنے نوازشریف کی آصف زرداری سے ٹیلی فون پر بات کروائی ۔کانفرنس کال میں بلاول ،آصف زرداری،شہبازشریف اور نوازشریف موجود تھے۔گفتگو کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اکیلے سیاسی پرواز ممکن نہیں ہے اس لیے ملکر کچھ کرنا ہوگا۔ٹیلی فونک رابطے میں ملکی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ وفاقی حکومت کے خاتمے کے لیے تحریک کے آغاز کے حوالے سے بھی غور کیا گیا۔علاوہ ازیں جمعرات کو اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔قوم پرست جماعتوں نے اجلاس میں اپنے تحفظات سے آگاہ کیاجس کے بعد اپوزیشن کی بڑی اور چھوٹی جماعتوں میں اختلافات ختم ہوگئے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے رہبر کمیٹی کے کنو ینئر اکرم درانی نے کہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس 20ستمبر کو زرداری ہائوس اسلام آباد میں ہوگی، حالات کے پیش نظر اے پی سی میں مزید تاخیر نہیںکرسکتے ۔انہوں نے کہا کہ مارشل لا کے دور میں بھی ایسے حالات نہیں تھے۔ احتساب نہیں صرف اپوزیشن کو تنگ کیا جارہا ہے یہ منتخب نہیں سلیکٹڈ حکومت ہے ،حکومت کو ایک دن بھی دینا حکومت کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ ن لیگ کے رہنما احسن اقبال نے کہاکہ کراچی میں بارش سے بہت تباہی ہوئی۔ سندھ اور خیبرپختونخوا میں سیلاب نے تباہی مچادی۔سیلاب صورتحال میں وفاقی حکومت کہیں نظر نہیں آئی۔ حکومت کو فوری امدادی پیکیج کا اعلان کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ملک میں انتشار پھیلا رہی ہے۔ حکومت کشمیر کے معاملے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ صباح نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اے پی سی میں حکومت مخالف فیصلہ کن تحریک سے متعلق ایجنڈا طے کرنے کے لیے جلد اپوزیشن کی جوائنٹ کمیٹی کا اجلاس بھی ہوگا ،کمیٹی کی سفارشات پیشگی اپوزیشن قائدین کو ارسال کی جائیں گی ،حتمی منظوری کے قائدین کی سفارشات کے ساتھ ان کو آل پارٹیز کانفرنس میں پیش کیا جائے گا دیگر جماعتیں اس دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی تحریری ضمانت لیں گی ۔