فیس بک کو ہوش آگیا ،بی جے پی رہنماء پر پابندی

218

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) فیس بک انتظامیہ نے طویل غفلت کے بعد تشدد اور نفرت کو ابھارنے والے بھارتی سیاست دانوں اور نسل پرستوں کے خلاف اقدام کر ہی دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق فیس بک انتظامیہ نے بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے سیاستدان کا اکاؤنٹ بند کر دیا ہے۔فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پالیسی ’’خطرناک افراد اور تنظیموں‘‘ کے تحت بی جے پی کے رہنما راجا سنگھ کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ فیس بک کے ترجمان نے بتایا کہ بی جے پی رہنما نے نفرت اور تشدد کو فروغ دینے والا قابل اعتراض مواد شیئر کیا تھا۔ ایک خبررساں ادارے نے راجا سنگھ سے اس خبر پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے ایک وڈیو پیغام بھیجا۔اس پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے حامیوں اور پارٹی کے دیگر کارکنوں نے ان کا نام استعمال کرکے صفحات بنارکھے ہیں اور وہ فیس بک سے رابطہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ وہ اپنا اکاؤنٹ بحال کراسکیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام اصولوں کے مطابق سوشل میڈیا کا استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ راجا سنگھ نے فرقہ وارانہ پوسٹ سے متعلق بات بھی مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ 2018ء میں ان کا سرکاری فیس بک اکاؤنٹ ہیک اور بلاک کردیا گیا تھا۔ میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرے پاس آفیشل پیج نہیں ہے۔ چند روز قبل بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے دعویٰ کیا تھا کہ فیس بک کی بھارتی ٹیم ملک کی حکمراں جماعت کی پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے، اس لیے پارلیمانی پینل اس حوالے سے تحقیقات کرے۔ کانگریس نے وال اسٹریٹ جنرل میں شائع ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی مواد کو دیکھنے والے فیس بک اور واٹس ایپ کے ملازمین نے کمپنی کے کمرشل مقاصد کو تحفظ پہنچانے کے لیے فیس بک پر نفرت انگیز تبصرے کرنے والے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت کے ارکان اسمبلی کے خلاف اقدام سے انکار کیا ہے۔ خیال رہے کہ ان میں سے اکثر ملازمین کا تعلق بھارت سے ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ فیس بک نے تبصرے ڈیلیٹ کر دیے، مگر ان افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔