نکاسی آب نہ ہونے کا معاملہ، ڈی ایچ اے، سی بی سی و دیگر کو نوٹس

101

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈی ایچ اے سے بارش کے پانی کی نکاسی نہ ہونے کا معاملہ عدالت نے ڈی ایچ اے، کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ اور دیگر کو نوٹس جاری کردیے، ڈی ایچ اور کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے خلاف درخواست میں درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حالیہ بارش میں ڈ ی ایچ اے کے مکینوں کو سخت اذیت اور کرب کا سامنا کرنا پڑا، ڈی ایچ اے نے اپنی اخلاقی اور قانونی ذمے داری بھی پوری نہیں کی، ڈی ایچ اے میں رہنے والوں کو بھاری مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا، پانی گھروں میں داخل ہونے سے املاک کو بھی نقصان پہنچا، ڈی ایچ اے میں پانی کی نکاسی اور مربوط نظام قائم
کیا جائے، نکاسی آب کا جدید نظام بنانے کے لیے ماہرین پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے، فوری طور پر برساتی نالہ بنایا اور تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے،عدالت نے ڈی ایچ اے، کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ سماعت پر جواب دینے کی ہدایت کی۔ علاوہ ازیں ڈی ایچ اے میں بارش کی تباہ کاریاں اور پانی جمع ہونے کے معاملے پر درخواست گزاروں کے وکیل نے ڈی ایچ اے کی آڈٹ رپورٹ سندھ ہائیکورٹ میں پیش کردی۔ رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ سی بی سی نے نالوں کی صفائی کے لیے 30 اپریل 2020 ء کو ٹینڈر جاری کیا، ٹھوس وجہ کے بغیر سب سے کم بولی دینے والے کنٹریکٹر کا ٹھیکا منسوخ کردیا گیا، اب مون سون کے اختتام پر دوسرا ٹینڈر جاری کیا جارہا ہے ، اپنے ریمارکس میں عدالت کا کہنا تھا کہ مون سون کے اختتام پر نالوں کی صفائی کا ٹینڈر جاری کرنے کا مقصد سمجھ سے بالا تر ہے، درخواست گزار کا کہنا ہے کہ 2018۔19ء کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق واضح گھپلے سامنے آئے ہیں ، قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوے 18کروڑ روپے کا ٹھیکا مختلف کنٹریکٹرز کو دیا گیا۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل، ڈپٹی اٹارنی جنرل،سی بی سی اور ڈی ایچ اے کو نوٹس جاری کردیے۔