غزوہ ءخیبر

440

چودہ سو برس قبل مدینہ منورہ کے شمال میں 100 میل دور ایک شہر خیبر واقع تھا۔ یہاں قلعے اور کھیتیاں کثیر تعداد میں تھیں اور یہاں یہودی آباد تھے۔ رسول اکرمؐ جب جنگ احزاب کے نتیجے میں قریش مکہ کو سبق سکھانے سے فارغ ہوئے تو انھوں نے خیبر کے یہودیوں اور نجد کے قبائل سے بھی نمٹنا ضروری سمجھا تاکہ پورا خطہ امن وسلامتی کا گہوارہ بن جائے اور اسلام کے علمبردار اطمینان وسکون اور یکسوئی سے اللہ کا پیغام ساری دنیا کے انسانوں تک پہچانے میں مصروف ہوسکیں۔ رسول اکرمؐ کی نگاہ انتخاب سب سے پہلے خیبر پر پڑی کیونکہ یہاں کے لوگ سازشوں اور قبائل کو لڑانے بھڑانے کا خوب کام کرتے تھے۔
یہ اہل خیبر ہی تھے جنھوں نے جنگ خندق میں مشرکین کے تمام گروہوں کو مسلمانوں پر چڑھائی کرنے کے لیے ابھارا، پھر بنو قریضہ کو اسلامی ریاست مدینہ سے غداری پر آمادہ کیا تھا۔ یہ لوگ منافقین یعنی بنو غطفان اور بدووں سے مکمل رابطے میں تھے۔ اسی دوران اہل خیبر خود بھی مسلمانوں سے بڑی جنگ کرنے کی تیاری کرتے رہے تھے۔ ان کی مختلف کارروائیاں مسلمانوں کے لیے مسائل پیدا کر رہی تھیں۔ انھوں نے رسول اکرمؐ کو شہید کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا۔ مسلمان ان فتنہ پروروںکی سرکوبی کے لیے مختلف چھوٹی مہمات ترتیب دیتے رہے تھے تاہم بڑی مہم اس لیے شروع نہیں کررہے تھے کہ ابھی سب سے بڑے دشمن گروہ قریش سے نمٹنا تھا۔
رسول اکرمؐ نے حدیبیہ سے واپسی پر ذی الحج کا پورا مہینہ اور محرم کے ابتدائی چند روز مدینہ میں گزارے، پھر اللہ کے حکم سے اپنے لشکر میں لوگوں کو خوب چھان پھٹک کر شامل کیا اور کسی منافق کو قریب بھی پھٹکنے نہ دیا۔ صرف وہی 1400 افراد شریک سفر ہوئے جنھوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے بیعت رضوان کی تھی۔ اس کے بعد خیبر کی طرف چل پڑے۔ پیچھے سے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے اہل خیبر کو فوراً اطلاع کردی کہ محمدؐ نے تمہاری طرف رخ کیا ہے لہذا چوکنے ہوجائو، تیاری کرلو اور دیکھنا ڈرنا نہیں کیونکہ تمہاری تعداد اور تمہارا سازوسامان زیادہ ہے اور محمدؐ کے رفقا بہت تھوڑے اور تہی دست ہیں اور ان کے پاس ہتھیار بھی بس تھوڑے ہی سے ہیں‘‘۔ اطلاع ملنے پر یہودیوں نے فوراً بنوغطفان سے مدد طلب کی اور انھیں پیشکش کی کہ اگر مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہوگیا تو خیبر کی پیداوار کا نصف انھیں دیا جائے گا۔ لالچ کے مارے بنوغطفان فوراً یہودیوں کی مدد کے لیے خیبر کی طرف بھاگ اٹھے۔ ان کا لشکر روانہ ہوا ہی تھا کہ انھیں اپنے علاقے میں کچھ شور سنائی دیا۔ انھوں نے سمجھا کہ مسلمانوں نے ان کے بال بچوں اور مویشیوں پر حملہ کردیا ہے۔ چنانچہ وہ یہودیوں کی مدد کا ارادہ ترک کرکے واپس لوٹ آئے۔
خیبر میں داخلے کے لیے دو راستے تھے۔ اول: مدینہ سے سیدھا خیبر، دوم: شام کی طرف سے۔ رسول اکرمؐ نے دوسرا راستہ اختیارکیا تاکہ مسلمانوں کا لشکر بنوغطفان اور یہودیوں کے درمیان ہو اور بنوغطفان یہودیوں کی مدد کے لیے نہ آسکیں اور یہودی علاقہ چھوڑ کر شام کی طرف نہ فرار ہوسکیں۔ یہودیوں نے لشکر اسلامی کے خیبر پہنچنے کا جو حساب کتاب لگا رکھا تھا، مسلمان اس سے بہت پہلے ان کے سروں پر پہنچ گئے۔ اہل خیبر اپنا ساز وسامان لے کر اپنے کھیتوں کی طرف روانہ ہو رہے تھے کہ انھوں نے اسلامی لشکر دیکھا، وہ خوب بدحواس ہوئے، چیخیں مارتے ہوئے اپنے شہر کی طرف بھاگے کہ خدا کی قسم! محمدؐ اپنے لشکر سمیت پہنچ گئے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’اللہ اکبر، خیبر تباہ ہوا۔ اللہ اکبر خیبر تباہ ہوا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر پڑتے ہیں تو ان ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے‘‘۔ جب لشکر خیبر کے اس قدر قریب پہنچا کہ شہر نظر آنے لگا تو آپؐ نے ایک مقام پر ٹھہرکر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور پھر لشکر کو بسم اللہ پڑھ کر پیش قدمی کا حکم دیا۔
لشکر رات گئے خیبر کے مزید قریب پہنچ گیا۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا: ’’میں کل جھنڈا ایک ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسولؐ اس سے محبت کرتے ہیں‘‘۔ اگلی صبح ہرکوئی تمنا کر رہا تھا کہ جھنڈا اسے ہی ملے گا۔ رسول اکرمؐ نے علیؓ کی بابت استفسار فرمایا۔ لوگوں نے کہا کہ ان کی آنکھ دکھ رہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’انھیں بلالائو‘‘۔ سیدنا علیؓ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھ پر لگایا، آنکھ فوراً اس طرح شفایاب ہوگئی، گویا کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔ اس کے بعد آپؐ نے انھیں کچھ ہدایات دے کر جھنڈا تھمادیا۔
خیبر کا علاقہ دو حصوں پر مشتمل تھا۔ پہلے حصے میں قابل ذکر پانچ قلعے تھے جبکہ دوسرے میں تین۔ ان کے علاوہ بھی کچھ مزید قلعے اور بستیاں بھی تھیں۔ جنگ پہلے حصے میں ہوئی۔ مسلمانوں نے سب سے پہلے قلعہ ناعم پر حملہ کیا۔ یہ یہودیوں کی دفاعی لائن کی حیثیت رکھتا تھا اور مرحب نامی شہہ زور کا تھا۔ اسے ایک ہزار مردوں کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ مرحب اپنے لشکریوں کے ساتھ اسلامی لشکر کے سامنے آکھڑا ہوا۔ علیؓ نے اسے اسلام کی دعوت دی جو اس نے مسترد کرتے ہوئے دعوت مبارزت دی۔ عامرؓ مرحب کے مقابل میدان میں اترے، وہ چھوٹے قد کے تھے۔ انھوں نے مرحب کی پنڈلی پر وار کیا تو تلوار کا سرا پلٹ کر ان کے اپنے گھٹنے پر آلگا۔ ان کے زخمی ہونے کے بعد سیدنا علیؓ میدان میں اترے اور انھوں نے مرحب کا خاتمہ کردیا۔ اس کے بعد فریقین کے درمیان ایک طویل لڑائی ہوئی۔
جب یہودی بھرپور مزاحمت کے باوجود مسلمانوں کو پیچھے نہ دھکیل سکے تو انھوں نے خفیہ راستوں سے آہستہ آہستہ ایک دوسرے قلعہ صعب کی طرف بھاگنا شروع کردیا۔ مسلمانوں نے قلعہ ناعم پر قبضہ کرنے کے بعد قلعہ صعب کا محاصرہ کر لیا۔ اسے تین روز تک گھیرے رکھا۔ بالآخر یہاں بھی لڑائی ہوئی اور مسلمان فاتح ہوئے۔ اگلا قلعہ زبیر پہاڑی کی چوٹی پر واقع تھا۔ یہاں سواروں اور پیادوں کو رسائی حاصل کرنے میں مشکل پیش آئی۔ اس کے محاصرے کو تین دن گزرے تو ایک یہودی نے آکر رسول اکرمؐ سے کہاکہ آپ ایک مہینہ بھی محاصرہ کرلیں تو کامیابی نہیں حاصل کرسکتے۔ البتہ قلعے کے لوگ پانی لینے کے بعد نیچے چشموں کا رخ کرتے ہیں، پانی بند کر دیا جائے تو یہ گھٹنے ٹیک دیں گے۔ رسول اکرمؐ نے لشکریوں کو چشموں پر قابض ہونے کا حکم دیا تو قلعے والے لڑائی پر اتر آئے لیکن لاشیں چھوڑ کر بھاگ نکلنے پر مجبور ہوگئے۔
قلعہ زبیر سے بھاگنے والوں نے قلعہ ابی میں پناہ لی۔ اس کا بھی محاصرہ ہوا، لڑائی ہوئی اور مسلمان فاتح ہوئے۔ یہاں سے بھاگنے والے یہودی قلعہ نزار میں اس یقین سے چھپ گئے کہ مسلمان کسی بھی صورت میں اس قلعے پر کبھی قابض نہیں ہوسکتے۔ تاہم مسلمانوں نے اسے بھی فتح کیا، اس کے بعد خیبر کا باقی علاقہ معمولی لڑائی یا پھر مذاکرات کے نتیجے میں مسلمانوں کے ہاتھ آگیا۔ باقی ماندہ یہودی سرداروں نے اس شرط پر مسلمانوں سے صلح کرلی کہ ان کی فوج کی جان بخشی کردی جائے گی، ان کے بال بچے انہی کے پاس رہیں گے یعنی انھیں لونڈی اور غلام نہیں بنایا جائے گا۔ وہ اپنے بال بچوں کو لے کر خیبر کی سرزمین سے نکل جائیں گے اور اپنے اموال، باغات، زمینیں، سونے، چاندی، گھوڑے، زرہیں، رسول اللہؐ کے حوالے کردیں گے، صرف اتنا کپڑا لے جائیں گے جتنا ایک انسان کی پشت اٹھاسکے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’اگر تم لوگوں نے مجھ سے کچھ چھپایا تو پھر اللہ اور اس کے رسول بری الذمہ ہوں گے‘‘۔
اس جنگ میں 16مسلمان شہید ہوئے جبکہ یہودی مقتولین کی تعداد 93 تھی۔ خیبر کی فتح پر غیرمعمولی مقدار میں مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا۔ قیدیوں میں ایک مقتول یہودی سردار کی دلہن صفیہ سمیت بہت سی عورتیں بھی شامل تھیں۔ صفیہ اسلام قبول کرکے رسول اکرمؐ کی زوجیت میں آئیں اور ام المومنین بن گئیں۔ اسی اثنا میں ایک یہودی خاتون نے زہر آلودگوشت پیش کرکے رسول اکرمؐ کو شہید کرنے کی سازش کی، آپ نے ایک لقمہ منہ میں ڈالا لیکن زہریلا محسوس کرکے اگل دیا۔ یہودی خاتون کو طلب کیا گیا، اس نے یہ کہتے ہوئے اقرار جرم کیا کہ میں نے سوچا کہ اگر یہ بادشاہ ہے تو ہمیں اس سے راحت مل جائے گی اور اگر نبی ہے تو اسے خبر دیدی جائے گی۔ اس پر آپؐ نے اسے معاف کردیا۔ فتح خیبر محرم الحرام میں ہی ہوئی تاہم اس کی صحیح تاریخ کے بارے میں مورخین خاموش ہیں۔ اس فتح کے بعد اردگرد کے علاقے بھی مسلمانوں نے فتح کیے۔ اس طویل مہم سے مدینہ میں واپسی صفر کے اواخر یا ربیع الاول کے اوائل میں ہوئی۔