حجاب کی پزیرائی

334

حجاب پر پابندی بیسویں صدی کے آخری عشرے میں فرانس نے اپنے ہاں لگائی۔ اپنے تعلیمی اداروں میں حجاب کے ساتھ داخلہ ممنوع قرار دیا۔ فرانس کے آزاد خیال دانشور فرانس میں حجاب لینے والی لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے خوفزدہ تھے۔ جن کے خیال میں یہ فرانس آنے والی اُس پہلی نسل کے مسلمانوں کا مسئلہ نہیں تھا جو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں الجزائر اور مراکش سے وہاں آئے اور فرانس کے معاشرے کا حصہ بننا چاہتے تھے۔ بلکہ یہ اُس دوسری اور تیسری نسل کا مسئلہ ہے جو وہیں پیدا ہوئی اور جس نے فرانسیسی اقدار اور ثقافت کو مسترد کردیا۔ انہوں نے اپنی شناخت کے لیے مذہبی اقدار کو تعلیمی اداروں میں اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ فرانس کے آزاد خیال کہلانے والے دانشور اس کو عورتوں کے لیے توہین آمیز قرار دیتے ہیں ہر چند کہ عورتیں اِسے اپنی مرضی سے پہنتی ہیں۔ لیکن ان دانش وروں کا خیال ہے کہ اکثر کے ساتھ زبردستی کی جاتی ہے ان کے گھر والے اور اُن کے علاقے کے امام اور مذہبی شدت پسند یہ حجاب اُن پر مسلط کرتے ہیں۔ یوں اُن کے خیال میں فرانس کی مسلمان برادری میں شدت پسندی کے جذبات کو فروغ دیا جارہا ہے۔ ایک اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ حجاب کے ذریعے مسلمان لڑکیوں کی شخصیت کو کچلا جارہا ہے۔ اور یہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ یہی دلائل فرانسیسی صدر ژاک شیراک کے تھے جب انہوں نے مذہبی شناختوں کو اُجاگر کرنے والے لباسوں اور نشانیوں پر پابندی لگانے کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے فرانس کے معاشرے میں برابری، آزادی، تنوع اور فرانس کے غیر مذہبی ریاست ہونے کی بات کی۔ ان کے تمام تر دلائل اور الفاظ کے باوجود سب جانتے تھے کہ جو وہ کہہ رہے تھے۔ اس سے مراد ہرگز گلے میں پڑی زنجیر سے لٹکی ہوئی چھوٹی سی صلیب یا سر کے چھوٹے سے حصے کو ڈھانپنے والی ٹوپی جو یہودی استعمال کرتے ہیں… نہیں ہے!!!
یہ کچھ اور چیز ہے جس سے انہیں خوف ہے اور جو فرانس کے کثیر الثقافتی معاشرے میں بتدریج جگہ بنا رہی ہے۔ مسلمان بچیاں جو وہیں پلی بڑھیں اور وہیں کے اسکول اور کالج کی طالبات ہیں اُن کا کہنا ہے کہ آزادی کی اس سرزمین پر کیسے کوئی میرا یہ حق چھین سکتا ہے کہ جو عقائد میں رکھتی ہوں اُن کا اظہار نہ کروں اس کا فیصلہ تو میں کروں گی کہ اپنے بال ڈھانپوں یا نہیں۔ اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ فرانس کثیر الثقافتی ملک بنا ہو یا نہ بنا ہو کثیر المذاہب ملک بن چکا ہے اور حجاب کی بحث کچھ اور بتاتی ہو یا نہ بتاتی ہو یہ ضرور منکشف کرتی ہے کہ بطور ملک فرانس تارکین وطن کی ایک بڑی برادری کو اپنے ثقافتی اور تہذیبی روایات میں جذب اور ہم آہنگ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ لیکن یہ ہم آہنگی نہ تو پہلے کبھی تھی اور نہ بعد میں ہے۔ اب اگر اس کو بہت زیادہ بحث کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو یقینا اس بات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ نائن الیون کے بعد آنکھیں اچانک وہ سب کچھ کیوں دیکھنے لگی ہیں جو انہیں پہلے دکھائی نہیں دیتا تھا۔
دنیا میں ہزاروں خواتین اسکارف پہنتی ہیں، ہوسکتا ہے کہ اُن میں سے کچھ کو مجبور کیا جاتا ہو لیکن بے شمار ایسی ہیں جو اپنی مرضی اور خوشی سے سر ڈھکتی ہیں خواتین انسانی حقوق کے مسائل کا شکار ہیں۔ اُن میں مسلمان خواتین بھی ہیں لیکن حجاب کو ان مسائل کی علامت سمجھنا درست نہیں ہے یہ تو مرضی کا معاملہ ہونا چاہیے۔ خاص طور سے آزاد مغربی ممالک میں…!! بی بی سی نے جب حجاب کے بارے میں بحث شروع کی اور رائے مانگی کہ حجاب پہننا ضروری ہے؟؟ جو کچھ خواتین نے ان سے پوچھا کہ وہ یہ بحث کیوں نہیں شروع کرتے کہ مغرب میں خواتین کی کم لباسی (عریانیت) ضروری ہے؟؟ یا عیسائیت مغرب میں عریانیت کی حمایت کرتی ہے؟؟ یا نہیں؟؟
حجاب پر بحث خوش آئند کہی جاسکتی ہے کہ یقینا اس بحث کے بعد خواتین حجاب کی طرف متوجہ ہوئی ہیں۔ انہوں نے حجاب اوڑھنے کے تنازعات کے بعد اس سے اظہار یکجہتی کے طور پر دنیا بھر میں ’’حجاب ڈے‘‘ منانے کا آغاز کیا۔ بین الاقوامی طور پر کینیڈا کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں 2007ء میں مسلم اور غیر مسلم طالبات نے گلابی رنگ کے حجاب اوڑھ کر اس دن کو منایا۔ اس طرح روسی عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا کہ خواتین سر ڈھانپ کر پاسپورٹ کے لیے تصویر بناسکتی ہیں۔ یہ فیصلے تاتارستان کی مسلم اکثریتی جمہوریہ کی خواتین کی اپیل پر کیا گیا۔ اس کے مطابق 1997ء میں جاری کیے گئے اس فیصلے کو منسوخ کردیا گیا جس کے تحت سر ڈھانپ کر تصویر بنوانے کی اجازت نہیں تھی۔ اسی طرح جرمنی کے اعلیٰ ترین عدالت نے ایک مسلمان خاتون ٹیچر کو اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ وہ پڑھاتے ہوئے اپنی کلاس میں سر ڈھانپ سکتی ہے۔ اس کی ایک اور اچھی مثال بھارت کے شہر حیدر آباد میں فروری 2006ء میں ہونے والا خواتین کا پہلا اجتماع بھی ہے جس میں پچاس ہزار برقع پوش خواتین نے شرکت کی اور اپنے حقوق پر بحث کی جس کا اہتمام جماعت اسلامی ہند نے کیا تھا۔
مجھے انتہائی حیرت اس خبر سے ہوئی کہ ممبئی کے ایک اسلامی اسکول میں غیر مسلم خواتین اساتذہ بھی حجاب پہنتی ہیں اور اس کو پہن کر صبح سے شام تک کلاس لیتی ہیں۔ اس اسکول میں 49 برقع پوش خواتین اساتذہ ہیں یہ پہچاننا مشکل ہے کہ ان میں سے کون غیر مسلم ہے۔
’’شالنی‘‘ وہاں کی ایک غیر مسلم ٹیچر ہیں وہ کہتی ہیں کہ میں اس کی اتنی عادی ہوگئی ہوں کہ مرد اسٹاف کی آواز سن کر ہی میرا ہاتھ مشینی انداز میں نقاب کی طرف جاتا ہے۔ تاکہ میں چہرے کا پردہ کرسکوں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ دو سال سے یہاں پڑھا رہی ہیں۔ یہاں کے لوگ بہت محبت سے پیش آتے ہیں، مجھے کبھی احساس نہیں ہوا کہ میں اُن سے الگ ہوں۔ برقع پہننا مجھے اچھا لگتا ہے اس طرح میں غیر مردوں سے محفوظ رہتی ہوں ورنہ اُن کی گھورتی نگاہیں تکلیف پہنچاتی ہیں، آپ کو غصہ آتا ہے لیکن آپ اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اب میں برقعے میں خود کو محفوظ سمجھتی ہوں۔
چناں چہ حجاب کا عالمی دن غیر مسلم خواتین کو بھی روایتی حجاب پہن کر زندگی بسر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یقینا اس سے بین الاقوامی طور پر معاشرے میں مزید مذہبی برداشت پیدا ہوگی۔ معاشرہ مغربی ہو یا مشرقی بات ارادے کو عمل میں لانے کی ہوتی ہے۔ جو چاہے تو لمحوں میں اور نہ چاہے تو ساری عمر نہیں ہوتا۔ ارادہ گویا بغیر عمل کے صرف بیج ہوتا ہے جو اپنی بار آوری کا منتظر ہی رہ جاتا ہے کہ
ارادہ ہوتے ہوئے بھی عمل نہیں ہوتا
یہ بیج بیج ہی رہتا ہے پھل نہیں ہوتا
بات سولہ آنے درست ہے جب تک ارادہ عمل میں نہیں ڈھلتا وہ زندگی کے شجر کو ثمر بار نہیں کرتا۔ بیج کی صورت میں ارادے کو چھوڑ دینا عقل مندی نہیں۔ ادھر نیکی کا معاملہ بھی عجیب ہے اگر بیج کی صورت میں بھی رہتا ہے تو وہ شجر کو بے ثمر نہیں رکھتا۔
رب کا وعدہ ہے کہ اگر دل میں نیکی کا ارادہ ہے تو بھی ایک اجر تو واجب ہی ہے اور اگر عمل میں ڈھل جائے تو رب دس گنا سے لے کر جتنا چاہے اُسے ترقی دے بڑھائے اور برگ وبار لائے۔ دل کی سرزمین کی زرخیزی ’’نیت‘‘ ہے حتیٰ بے غرض اور پرخلوص ہوگی اُسی قدر بہاروں کے موسم کی نوید بنے گی۔
زینب الغزالی کا نام تو سب جانتے ہیں ان ہی کے ساتھ کی نوعمر ایک اور مجاہد خاتون ’’زینب الکاشف‘‘ تھیں۔ ان کے بارے میں مصنفہ ’’مریم السید ہند آوی‘‘ اپنی کتاب ’’عصر حاضر کی مجاہد خواتین‘‘ میں لکھتی ہیں کہ ’’زینب الکاشف‘‘ ڈکٹیٹر جمال عبدالناصر کی جیلوں میں سب سے کم عمر قیدی تھیں۔ ان کا گھرانہ اگرچہ اسلامی تھا لیکن زینب پردہ نہیں کرتی تھیں وہ درس میں شرکت کرتی تھیں۔ لیکن صرف نماز کے دوران چادر اوڑھا کرتی تھیں۔ درس میں شرکت کے وقت بھی چادر اوڑھتی تھیں۔ ایک بار ایک اخوان بہن نے انہیں اپنے گھر بلایا اور پردے کے موضوع پر گفتگو کی۔ زینب الکاشف نے انہیں جواب دیا ’’آپ مجھے کسی چیز پر مجبور نہیں کرسکتیں، میں وہی کروں گی جو میں چاہوں گی اور جس پر مطمئن ہوں گی۔ اخوانی بہن نے جواب دیا ’’ہم کسی کو پردے پر مجبور نہیں کرتے۔ زینب الکاشف اس ملاقات کے بعد سیدھی بازار گئیں اور ایک بڑی چادر خرید کر اُسے اوڑھ لیا۔ جب وہ یہ حجاب پہن کر بہنوں کے پاس پہنچی تو وہ سب بہت خوش ہوئیں۔ اب زینب الکاشف نے پوری تن دہی کے ساتھ اخوانی خواتین کے ساتھ مل کر دعوت کا کام شروع کردیا۔ وہ 73 سال کی عمر تک جرأت مندی کے ساتھ دعوتی سرگرمیوں میں مصروف رہیں۔ قید و بند اور شوہر کی شہادت کا صدمہ برداشت کیا لیکن جس راہ کو اپنا لیا اس پر زندگی کی آخری سانس تک جمی رہیں۔ انہوں نے ارادے کو عمل میں تبدیل کرنے میں دیر نہیں کی۔ لہٰذا زندگی کا حاصل ’’حیات دوام‘‘ کی صورت میں یقینا حاصل کرنے والی ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اُن کو اور ہم سب کو ’’جام کوثر‘‘ کا آب حیات نصیب فرمائے۔ اور ارادے کو عمل میں تبدیل کرنا آسان کرے آمین۔
ارادہ ہوتے ہوئے بھی عمل نہیں ہوتا
یہ بیج بیج ہی رہتا ہے پھل نہیں ہوتا
نصیب ہو نہ حیات دوام انسان کو
تو زندگی کا کوئی ماحصل نہیں ہوتا