عمران خان کا دکھ

330

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان کو اس بات کا بہت دکھ ہے کہ نواز شریف ان کے ہاتھ سے نکل گئے گویا عمران خان کا دکھ سیاسی نہیں بلکہ اس بیٹر باز کا دکھ ہے جس کے ہاتھ سے بٹیر نکل گیا ہو۔ حالانکہ اس میں دکھ کی کوئی بات نہیں بٹیر بازی میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ ایک اور انکشاف فیاض الحسن چوہان نے بھی کیا ہے کہتے ہیں کہ شہباز شریف نااہل ہونے کے لیے تیار ہوجائیں کیونکہ انہوں نے نواز شریف کو لندن سے واپس لانے کی ضمانت دی تھی۔ چونکہ میاں نواز شریف کے آنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے جو شہباز شریف کے امین و صادق نہ ہونے کی دلیل ہے اور جو امین و صادق نہ ہو وہ اسمبلی کا رکن نہیں رہ سکتا۔
خدا جانے عمران خان اور ان کے وزیر و مشیر اور طرف دار ایسے الٹے سیدھے بیانات کیوں جاری کرتے ہیں جو مذاق بن جاتے ہیں۔ چوہان صاحب نے اسمبلی میں جو کاغذ لہرایا تھا اگر اس کو پڑھ لیتے تو مذاق نہ بنتے۔ شہباز شریف نے یہ ضمانت دی تھی کہ جب ڈاکٹر میاں نواز شیریف کو صحت مند قرار دے کر مزید علاج کی ضرورت سے انکار کردیں گے تو میاں نواز شریف کو پاکستان آئیں گے۔ گویا شہباز شریف ضمانت کے مطابق میاں نواز شریف کو اسی وقت پاکستان لائیں گے جب لندن کے ڈاکٹر انہیں مکمل صحت مند قرار دے دیں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ حکومت کے پاس کرنے کے لیے کوئی کام نہیں بس الٹے سیدھے بیانات دے کے عوام کی توجہ مہنگائی اور بے روزگاری سے ہٹانے کی سعی نامشکور کرتی رہتی ہے۔
وطن عزیز میں ایسے افراد کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا جو دوسروں کی موت کے خواہش مند ہوں۔ اہل وطن کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ عمران خان کو نواز شریف کے صحت مند ہونے کا دکھ کھائے جارہا ہے۔ عمران خان کو یقین تھا کہ صحت میاں نواز شریف سے روٹھ گئی ہے اور موت کا شکنجہ ان کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے ان حالات میں وزیر اعظم عمران خان کو باور کرایا گیا کہ میاں نواز شریف کو علاج کے لیے باہر نہ بھیجا گیا اور پاکستان میں ان کی موت واقع ہوگئی تو حکومت ایک ایسی مصیبت میں پھنس جائے گی جس سے نبردآزما ہونا مشکل ہوجائے گا۔ کیونکہ مرا ہوا ہاتھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے اس پیش منظر میں عمران خان نے سوچا کہ ایک مرتے ہوئے آدمی کو مار کر شاہ مدار بننے کی کیا ضرورت ہے کہ سو انہوں نے میاں نواز شریف کو لندن جانے کی اجازت دے دی۔ اور عمران خان کی حکومت میاں نواز شریف کی موت کا انتظار کرنے لگی مگر جوں جوں میاں صاحب کی صحت بہتر ہونے لگی اور ان کے چہرے پر رونق آنے لگی حکومت کی رونقیں ماند پڑنے لگی اور دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں۔ اور وہ میاں نواز شریف کی بیماری میں شک و شبہات کا اظہار کرنے لگی مگر جب شک و شبہات بے اثر ثابت ہونے لگے تو اس نے بیماری کو جعلی اور خود ساختہ قرار دے دیا ۔ مگر عوام پر اس پروپیگنڈے کا کوئی اثر نہ ہوا کیونکہ کسی مریض کی چہل قدمی کرنا صحت مند ہونے کی دلیل نہیں کیونکہ ڈاکٹر صاحباں بیمار کی جسمانی حالت دیکھ کر اسے بیڈ ریسٹ یا چہل قدمی کا مشورہ دیتے ہیں۔ انسانیت کے ناتے ہمیں میاں نواز شریف کی چہل قدمی کو دیکھ کر خوش ہونا چاہیے۔ چہکنا چاہیے کہ وہ صحت یاب ہورہے ہیں مگر تحریک انصاف کی حکومت ان کی چہل قدمی کو دیکھ کر چیخ رہی ہے کہ ہماری آنکھوں میں دھول جھونک دی اور بیماری کا ڈراما کرکے لندن چلے گئے مگر انہیں اس حقیقت کا احساس ہی نہیں کہ ڈراما بازی جگ ہنسائی کا باعث بن رہی ہے پاکستانی ڈاکٹروں کا مذاق اڑا رہی ہے۔ قبل ازیں پی آئی اے کے پائلٹس کے بارے میں حکومتی بیانات سے پاکستان کی معیشت کو ناصرف نقصان پہنچا بلکہ پاکستانی اداروں کی کارکردگی اور دیانت داری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ حالانکہ اس معاملے کے بعد حکومت کو بہت محتاط ہوجانا چاہیے تھا۔
تحریک انصاف کی حکومت میڈیکل بورڈ کی کارکردگی کی جانچ پڑتال کرنے کا اعلان تو کر چکی ہے مگر فیصلہ کرنے سے ہچکچا رہی ہے ادھر میڈیکل بورڈ نے حکومتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے پاس میاں نواز شریف کی بیماری کے تمام ثبوت موجود ہیں ہم حکومتی نمائندوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔