“اپنی عزت نفس کی حفاظت کیجئے”

252

ڈاکٹر بشریٰ تسنیم
پبلک پراپرٹی کا خیال آتے ہی عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے ایسا احساس جس میں عزت نفس کا کچھ پاس نہ ہو۔جس کا کوئی والی وارث نہ ہو۔ جو پراپرٹی کسی کی ملکیت ہو اس کے ارد گرد چار دیواری بنا کر بورڈ لگا دیا جاتا ہے یہپبلک پراپرٹی نہیں ہے”۔ “یہاں کوڑا کرکٹ پھینکنا منع ہے”۔ “یہ پراپرٹی برائے فروخت نہیں ہے”۔
شریف آدمی تو دوسرے کی ملکیت کے بارے غلط سوچ رکھے گا ہی نہیں اس سے تو یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی جب کسی جگہ اس قسم کی اطلاع والے بورڈ آویزاں ہوں تو برے لوگ بھی اپنی شرارت سے باز رہتے ہیں إلا یہ کہ کوئی بد معاشی میں حد سے گزر جائے۔ بورڈ لگانے کی وجہ سے مالک کو شریر لوگوں سے قانونی تحفظ فوری مل جاتا ہے کہ اس نے اپنی ملکیت پہ بری نظر رکھنے والوں کو متنبہ کر رکھا تھا۔
خوب صورت نازک قیمتی چیز کی حفاظت کے لیے اہتمام زیادہ کیا جاتا ہے۔ وہ برتن ہوں یا زیور ان کی حفاظت اور اہمیت ان کی قیمت کے لحاظ سے ہوتی ہے اور ان کی قدر اُن سے وابستہ رشتے سے ہوتی ہے۔ روزانہ استعمال کی کم قیمت چیزوں کو غلاف چڑھانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
قیمتی اشیاء کو ہی گرد مٹی اور لوگوں کی گندی بری نظروں سے بچا کر رکھنے کے لیے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔
ہیرے جواہرات کی دوکان پہ گارڈ متعین ہوتے ہیں گارڈ کی موجودگی بتاتی ہے کہ یہاں صرف وہی لوگ آسکتے ہیں جو اس کے اہل ہیں کھلی دوکانوں اور ریڑھی والوں کو گارڈ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
قیمتی اہم آشیاء کو قدرت نے غلافوں اور پردوں میں چھپا رکھا ہے۔
جسم کے خوب صورت اہم ضروری حصے کی حفاظت کا زیادہ اہتمام کیا گیا ہے دماغ ہو یا دل دونوں کو چھپا دیا خوب حفاظت سے رکھا۔
الله نے جنت جیسی خوب صورت جگہ کے گرد باڑ لگا دی کہ اس جنت کے اہل ہی یہاں تک پہنچ پائیں گے۔ خود الله نے اپنی ذات کو پردوں میں چھا لیا کہ وہی اس حسن کا دیدار کر سکے گا جو اس کا اہل ہوگا۔
الله الخالق کو دنیا میں سب سے پیاری مخلوق عورت ذات ہے۔ اگر الله تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنی پیاری حسین انمول مخلوق کو حفاظت سے رکھنے گندی نظروں سے بچائے۔ عزت نفس کو ٹھیس نہ پہنچنے دے۔ تو بهلا شیطان کیسے برداشت کر سکتا ہے۔ امت مسلمہ کی خواتین کو شیطان نے چیلنج دے رکھا ہے کہ وہ الله رب العزت کی عطا کی ہوئی عزت وقار محبت شفقت کو قبول کرکے خود کو دنیا و آخرت کی اہم ترین شخصیت بنانا چاہتی ہیں یا پھر شیطان کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے راندہ درگاہ ہونا چاہتی ہیں۔ مومن مردوں کو الله نے عورتوں کا ولی بنایا ہے، ہر محرم رشتہ اپنی ولایت اور رعایا کے بارے میں کتنا حساس اور غیرت مند ہے اس کا جواب مومن مردوں کو دینا ہوگا اور ضرور دینا ہوگا۔
ایها النبی قل لازواجک و بناتک ونساء المؤمنین ید نین علیهن من جلابیبهن ذالک ادنیٰ ان یعرفن فلا یوذین. (آیت59 الأحزاب)
اے نبی (صل اللہ علیہ و سلم) اپنی بیویوں، بیٹیوں اور تمام مومن عورتوں سے کہ دیجیے کہ (گھر سے باہر نکلیں) تو اپنی چادروں کے پلو اپنے اوپر ڈال لیا کریں اس طرح ان کے عز وشرف کی پہچان رہے گی اور ان کی عزت نفس کو اذیت نہ پہنچائی جائے گی۔
الله رب العزت سے دعا ہے کہ مسلم مردوں کی غیرت ایمانی کی حفاظت فرمائے اور مسلم عورتوں کی عزت نفس کو محفوظ رکھنے کے لیے انہیں ان شیطانی ہتھکنڈوں کی پہچان عطا فرمائے آمین۔